(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
مجھے ہمیشہ یقین رہا تھا کہ دنیا ایک منظم کتاب ہے۔
ہر صفحہ اپنے سے پہلے صفحے سے جڑا ہوا، ہر لفظ اپنے معنی کا پابند، ہر واقعہ کسی نہ کسی سبب کی انگلی تھامے ہوئے۔
میں نے زندگی کو ایک ایسے آئینے کی طرح دیکھا تھا جس پر دھند تو آ سکتی ہے مگر اس کی ساخت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔
مگر پھر ایک دن ایسا آیا جب آئینہ اپنی جگہ موجود تھا، چہرہ بھی وہی تھا، لیکن عکس بدل گیا تھا۔
اور شاید انسان کے لئے سب سے بڑا خوف اندھیرا نہیں ہوتا۔
اندھیرا تو صرف روشنی کی غیر موجودگی ہے۔
اصل خوف تو اس لمحے میں جنم لیتا ہے جب روشنی موجود ہو، آنکھیں کھلی ہوں، مگر جو کچھ دکھائی دے وہ قابلِ یقین نہ رہے۔
میں نے کبھی بھوتوں سے خوف نہیں کھایا۔
وہ قصے جو رات کے سناٹے میں بچوں کو ڈرانے کے لئے سنائے جاتے ہیں، میرے لئے محض انسانی تخیل کی کمزور تصویریں تھیں۔
مجھے ان سایوں سے کیا ڈرنا تھا جو دروازہ کھلنے پر غائب ہو جاتے ہیں؟
مجھے ان آوازوں سے کیا خوفزدہ ہونا تھا جو صبح کے اجالے میں اپنی حقیقت کھو دیتی ہیں؟
میرا خوف کسی مافوق الفطرت چیز سے نہیں تھا۔
میرا خوف تو اس دن پیدا ہوا جب مجھے محسوس ہوا کہ شاید فطرت کا وہ نظام جس پر میں نے اپنا پورا یقین قائم کیا تھا، کہیں اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔
ایک معمولی سی دراڑ تھی ابتدا میں۔
اتنی معمولی کہ اگر میں چاہتا تو اسے نظر انداز کر سکتا تھا۔
مگر کچھ دراڑیں دیوار میں نہیں پڑتیں، وہ انسان کے یقین میں اترتی ہیں۔
پہلے پہل میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ محض اتفاق ہے۔
دنیا میں ہر روز لاکھوں واقعات ہوتے ہیں، چند عجیب واقعات سے حقیقت کے اصول نہیں بدل جاتے۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ چند واقعات میرے راستے میں بار بار آنے لگے۔
ایسا محسوس ہونے لگا جیسے زندگی کی کتاب میں کسی نامعلوم ہاتھ نے چند ایسے جملے لکھ دیے ہیں جو باقی تحریر کے مزاج سے میل نہیں کھاتے۔
میں نے انہیں مٹانے کی کوشش کی۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ مٹنے کے بجائے اور نمایاں ہو جاتے۔
میں نے محسوس کیا کہ کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جتنا دبایا جائے، وہ اتنی ہی طاقت سے واپس آتی ہیں۔
وہ کسی خاموش دشمن کی طرح نہیں تھیں۔
نہیں۔
وہ تو ایک ایسے وجود کی مانند تھیں جو جانتا تھا کہ اسے دیکھا جا رہا ہے۔
وہ خود کو چھپاتی تھیں، اپنا رنگ بدلتی تھیں، عام چیزوں کے لباس میں سامنے آتی تھیں۔ کبھی ایک معمولی واقعے کی صورت میں، کبھی ایک ناقابلِ فہم احساس کی صورت میں، کبھی ایک ایسے سوال کی شکل میں جس کا جواب عقل کے تمام دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود نہ ملتا۔
تب مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان صرف باہر کی دنیا میں نہیں رہتا۔
اس کے اندر بھی ایک کائنات آباد ہوتی ہے۔
ایک ایسی کائنات جہاں منطق کے قوانین کبھی کبھی خاموش ہو جاتے ہیں اور شعور اپنے ہی قدموں کی چاپ سے چونک اٹھتا ہے۔
میں نے زندگی بھر دلیلوں پر اعتماد کیا تھا۔
مجھے یقین تھا کہ ہر سوال کے پیچھے کوئی جواب ضرور چھپا ہے۔
لیکن اب سوال یہ نہیں تھا کہ جواب کہاں ہے؟
اصل سوال یہ تھا کہ کیا ہر سوال جواب کا محتاج بھی ہے؟
کچھ راز شاید اس لئے نہیں ہوتے کہ انہیں حل کیا جائے۔
کچھ راز صرف اس لئے ہوتے ہیں کہ انسان ان کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے غرور کو ٹوٹتا ہوا دیکھے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم حقیقت کو جانتے ہیں، حالانکہ حقیقت ہمیں ہر لمحہ جانچ رہی ہوتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم زندگی کے مسافر ہیں، مگر کبھی کبھی معلوم ہوتا ہے کہ زندگی خود ہمیں سفر کروا رہی ہے۔
اور پھر ایک مقام ایسا آتا ہے جب انسان کے پاس دو راستے رہ جاتے ہیں۔
یا تو وہ اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال لے، تاکہ پرانی دنیا سلامت رہے۔
یا پھر وہ پردہ اٹھا دے، چاہے اس کے پیچھے جو کچھ بھی ہو۔
میں نے دوسرا راستہ چنا۔
میں جانتا تھا کہ اس راستے کے آگے سکون نہیں، سوال ہیں۔
روشنی نہیں، شاید اور گہری تاریکی ہے۔
مگر بعض اوقات انسان اندھیرے سے نہیں ڈرتا، وہ اس جھوٹے اجالے سے تھک جاتا ہے جس میں وہ برسوں خود کو محفوظ سمجھتا رہا ہو۔
سو میں نے اپنے اندر کا دروازہ کھول دیا۔
نہ کسی بہادری کے دعوے کے ساتھ، نہ کسی فتح کے یقین کے ساتھ۔
بس ایک تھکے ہوئے انسان کی طرح، جو اپنے ہی وجود میں گونجتی ہوئی ایک نامعلوم آواز کا تعاقب کرنا چاہتا تھا۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ دروازے کے دوسری طرف کیا ہے۔
کوئی دشمن؟
کوئی حقیقت؟
کوئی وہم؟
یا میری اپنی ذات کا وہ حصہ جسے میں نے عمر بھر پہچاننے سے انکار کیا؟
لیکن اب واپسی ممکن نہیں تھی۔
کیونکہ بعض دروازے جب ایک بار اندر سے کھل جائیں تو انسان باہر نہیں، خود اپنے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اور وہاں جو کچھ ملتا ہے، وہ دنیا کا سب سے بڑا راز بھی ہوتا ہے اور سب سے بڑا خوف بھی۔
انسان کا سامنا آخرکار کسی عفریت سے نہیں ہوتا؛
وہ ہمیشہ اپنے ہی اس چہرے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے جسے دیکھنے کی ہمت اس نے ساری عمر نہیں کی۔
