(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کو دنیا میں صرف ایک زندگی ملتی ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس ایک زندگی میں بھی اکثر لوگ اپنا چہرہ لیے بغیر زندہ رہتے ہیں۔
وہ دوسروں کی پسند کو اپنی پسند، دوسروں کے یقین کو اپنا یقین، دوسروں کی منزل کو اپنی منزل اور دوسروں کے بنائے ہوئے پیمانوں کو اپنی کامیابی کا معیار سمجھ لیتے ہیں۔ پھر ایک دن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں احساس ہوتا ہے کہ چہرہ تو اپنا ہے، مگر اس پر جمی ہوئی شناخت کسی اور کی ہے۔
اصل المیہ ناکامی نہیں؛
اصل المیہ یہ ہے کہ انسان کامیاب ہو جائے اور آخر میں معلوم ہو کہ جس شخص کو کامیابی ملی، وہ خود وہ شخص تھا ہی نہیں۔
بھیڑ ہمیشہ محفوظ لگتی ہے۔
اس میں آدمی کے لیے الگ سے سوچنے کی زحمت کم ہوتی ہے۔ جدھر سب چل رہے ہوں، ادھر چلنے والا اپنے قدموں کا جواز نہیں مانگتا۔ اسے نہ اپنے راستے کی تنہائی سہنی پڑتی ہے، نہ اپنے فیصلوں کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے۔
مگر زندگی کا ایک مقام ایسا ضرور آتا ہے جہاں انسان کو ہجوم کی آواز سے زیادہ اپنے اندر کی خاموشی سنائی دینے لگتی ہے۔
وہ خاموشی پوچھتی ہے:
تم جو بنے ہوئے ہو، کیا واقعی یہی ہو؟
جو مانتے ہو، کیا واقعی اسے جانتے بھی ہو؟
جس منزل کے لیے دوڑ رہے ہو، کیا کبھی ٹھہر کر یہ بھی سوچا کہ وہ تمہاری منزل ہے یا صرف لوگوں کی خواہش کا دوسرا نام؟
یہ سوال معمولی نہیں ہوتے۔
انسان جب پہلی مرتبہ اپنے وجود کی طرف پلٹتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی ذات دریافت کرنا، دنیا سے الگ ہونے کا نام نہیں؛ دنیا کے شور سے اپنے اندر کے سچ کو الگ پہچاننے کا نام ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں تنہائی شروع ہوتی ہے۔
جو شخص اپنے راستے کا انتخاب کرتا ہے، اسے ہمیشہ تالیاں نہیں ملتیں۔ کبھی اس کی خاموشی کو غرور کہا جاتا ہے، کبھی اس کے اصولوں کو ضد، کبھی اس کے خوابوں کو حماقت اور کبھی اس کے انکار کو ناکامی سمجھ لیا جاتا ہے۔
مگر ہر نئی سوچ پہلے اجنبی ہی ہوتی ہے۔
دنیا کو عادت ہے کہ وہ پہچانی ہوئی چیز کو تسلیم کرے۔ جو چیز اس کے بنے بنائے خانوں میں نہ سمائے، اسے پہلے شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ کیونکہ نیا راستہ صرف مسافر نہیں بدلتا، راستوں کے پرانے نقشے بھی بے معنی کر دیتا ہے۔
اسی لیے اپنے ہونے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
کبھی دوست کم ہو جاتے ہیں۔
کبھی راستے لمبے ہو جاتے ہیں۔
کبھی اپنے ہی لوگ آپ کو سمجھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے کوئی گواہ نہیں ملتا۔
تب انسان کو ایک عجیب فیصلہ کرنا پڑتا ہے:
کیا میں قبول کیے جانے کے لیے خود کو بدل دوں، یا خود کو بچانے کے لیے کچھ لوگوں کی قبولیت کھو دوں؟
یہیں شخصیت بنتی ہے۔
کیونکہ کردار اس وقت نہیں بنتا جب سب آپ کے ساتھ کھڑے ہوں؛ کردار تو اس وقت جنم لیتا ہے جب آپ کے حق میں کوئی آواز نہ ہو اور پھر بھی آپ اپنے ضمیر کے خلاف جانے سے انکار کر دیں۔
یاد رکھیے، منفرد ہونا کوئی لباس نہیں کہ اسے پہن کر آدمی دوسروں سے الگ دکھائی دے۔
یہ تو اندر کی وہ آگ ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے بے وفائی نہیں کرنے دیتی۔
اور اپنی شناخت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر معاملے میں دوسروں کے برعکس کھڑا ہوا جائے۔ محض اختلاف انفرادیت نہیں۔ بعض اوقات بھیڑ سے الگ کھڑا شخص بھی بھیڑ ہی کی نفسیات کا شکار ہوتا ہے، کیونکہ اس کی تمام شخصیت دوسروں کی مخالفت پر قائم ہوتی ہے۔
اصل آزادی یہ ہے کہ آپ کا فیصلہ نہ لوگوں کی منظوری سے پیدا ہو، نہ ان کی مخالفت سے۔
آپ وہ کریں جو آپ کے شعور، تجربے، اصول اور ضمیر کے درمیان ایک سچا مکالمہ طے کرے۔
پھر وقت کو اپنا کام کرنے دیں۔
وقت بڑا عجیب منصف ہے۔
وہ فوری فیصلے نہیں سناتا۔
وہ خاموشی سے انسانوں، خیالات اور کرداروں کو برسوں کی کسوٹی پر رکھتا ہے۔
آج جس بات پر آپ کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، ممکن ہے کل وہی بات کسی اور کے لیے راستہ بن جائے۔ آج جس خواب پر لوگ مسکرائے ہیں، ممکن ہے کل وہی خواب کسی نسل کی سمت متعین کرے۔
لیکن یہاں بھی ایک احتیاط ضروری ہے:
اپنی شناخت بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا سے اپنی قدر منوانے کی مسلسل خواہش میں مبتلا ہو جائیں۔
جس دن انسان اپنی سچائی کے لیے تماشائی ڈھونڈنے لگتا ہے، اسی دن اس کی آزادی دوبارہ دوسروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔
پھول کو اپنی خوشبو کے حق میں ووٹ نہیں چاہیے۔
دریا کو اپنے بہاؤ کی منظوری نہیں چاہیے۔
آسمان کو اپنی وسعت ثابت کرنے کے لیے کسی پیمانے کی ضرورت نہیں۔
انسان بھی جب اپنے اصل تک پہنچتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ شناخت وہ نہیں جو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں؛ شناخت وہ ہے جو وہ تنہائی میں بھی اپنے بارے میں جھوٹ بولے بغیر کہہ سکتا ہے۔
اس لیے اپنے آپ کو کسی کے عکس میں تلاش نہ کیجیے۔
اپنی کمزوریوں سمیت اپنے وجود کو دیکھیے۔
اپنے سوالوں سے نہ گھبرائیے۔
اپنے راستے کو صرف اس لیے مت چھوڑیے کہ اس پر ابھی قدموں کے نشان کم ہیں۔
اور اگر کبھی دنیا آپ کو سمجھنے میں دیر کرے تو اسے اپنی ناکامی نہ سمجھیے۔
کچھ حقیقتیں وقت سے پہلے سمجھی نہیں جاتیں۔
بس اتنا ضرور کیجیے کہ اپنی انفرادیت کے زعم میں انسانیت نہ کھو بیٹھیں، اور اپنی اصول پسندی کے نام پر دل کو پتھر نہ بنائیں۔ عظمت دوسروں سے بلند ہونے میں نہیں، اپنے اندر اتنا اتر جانے میں ہے کہ وہاں سے نکل کر آپ دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں۔
آخرکار زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ آپ کتنے لوگوں جیسے تھے۔
سوال یہ ہوگا:
جب زندگی نے آپ کو آپ ہی کے سامنے کھڑا کیا، تو کیا آپ نے اپنے آپ کو پہچانا تھا؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو شاید آپ نے زندگی کا سب سے اہم سفر طے کر لیا۔
کیونکہ دنیا میں سب سے مشکل کام مشہور ہونا نہیں،
اپنے ہی وجود میں گم ہو جانے سے بچنا ہے۔
اور شاید انسان کی اصل کامیابی یہی ہے کہ عمر کے آخری موڑ پر جب وہ اپنے ماضی کو دیکھے تو اسے کسی اور کی زندگی یاد نہ آئے—
بلکہ اسے محسوس ہو کہ جو زندگی گزری،
وہ واقعی اس کی اپنی تھی۔
