Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
تاروں کا پہلے اہتمام کرو
بعد میں دوپہر کو شام کرو
شل پاؤں لے کر چلنا تو ہو گا
منزل کی خیر ہے تماشہ تو ہو گا
وہ درد کی گرد سے اٹا نکلا ہے
خندہ لب تھا جو غم زدہ نکلا ہے
شدت غم میں ہنسا کرتے ہیں، بھرتے نہیں آہ
عظمتِ غم تو کسی طور نہیں کرتے تباہ
رات ،غم اور ستاروں کے سوا کیا ہے
اپنے پاس ان سہاروں کے سوا کیا ہے
طلاطموں کے بیچ میں بھنور تو خود سفر میں ہے
کہ منزلوں کے بھید کا سفر ، تو خود سفر میں ہے
ہے میرا بس اکلوتا غم یعنی تم
میرے اس غم کا مرہم یعنی تم
باتیں ساری کھولوں گا
جلدی تھوڑی کھولوں گا
یہ رنج کیا ہیں خود پر گزرے تو ہم سمجھے
یہ الم سارے خود جو جھیلے تو ہم سمجھے
اے وصل کی رات خدا حافظ
سن آخری بات خدا حافظ
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
16
17
18
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top