Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
ہم تو سمجھ رہے تھے محبت میں آئے ہیں
لیکن وہ خود غرض تو ضرورت میں آئے ہیں
آ ہجر کی شام
وعلیکم السلام
مسئلے دل کے تھے زیرِ نظر کتنے نکلے
اہلِ دل میں سے اہلِ ہنر کتنے نکلے
نقاب اٹھا تھا دھواں بھر جانے کے بعد
پوچھنے آئے وہ طوفاں گزر جانے کے بعد
غم دیکھے ہیں کیا کیا ہم نے دنیا داری میں
بھولے غم اپنے اوروں کی غمخواری میں
اس طرح سے زندگی گزاری میں نے
جیتی ہوئی جنگ جیسے ہاری میں نے
پیاس کو جام کر کے دیکھ لیا
خود کو گمنام کر کے دیکھ لیا
ہم کو ہر جبر گراں گزرا ہے
ان کو گر حشر گراں گزرا ہے
مت چھوڑ پارسائی ، وفاؤں میں رہ کے جی
اٹھتے ہیں جو سوال جوابوں میں رہ کے جی
کس کس نے ڈال دی ہے مری جاں عذاب میں
ڈوبی تھی ایک سوہنی دل کے چناب میں
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
17
18
19
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top