Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
ان چھپی عبارت لگتی ہو
پُر اسرار عمارت لگتی ہو
وہ بےمثل جب بھی مثال دیتے ہیں
ایک نئی پہیلی ڈال دیتے ہیں
زمیں بھوکی ہے سمندر پیاسہ ہے
وقت کے منکروں کا مقدر پیاسہ ہے
آنکھیں ویران لگتی ہیں
سوالیہ نشان لگتی ہیں
ہر لوٹتی دعا سے الجھتا رہا
تیری خاطر خدا سے الجھتا رہا
تم جواب ہو کہ سوال ہو، کمال ہو
کوئی خواب ہو کہ خیال ہو، کمال ہو
کھیلو گے بازی اگر استادوں سے
شاہ تو پٹیں گے پھر پیادوں سے
سفر یوں بھی طویل کر لیں گے
تجھے اے تشنگی سبیل کر لیں گے
اجڑے ہوئے مزاروں سے ڈر لگتا ہے
خاموش غمگساروں سے ڈر لگتا ہے
خود کو گھائل کر لیتا ہے
یوں بھی مائل کر لیتا ہے
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
19
20
21
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top