Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
ہم کو گر اس سے محبت نہیں کرنی آئی
اسے بھی ٹھیک سے نفرت نہیں کرنی آئی
یومِ عشور تھا اور کربلا گزری تھی
یہی روز تھا مجھ سے ماں بچھڑی تھی
کیسا یہ نشہ ہے، کیسی یہ خماری ہے
سرداری نہیں غافل یہ سر داری ہے
مٹ گیا میں تو بس نشان باقی ہے
زندگی اور کتنا تیرا تاوان باقی ہے
تو بھی بس دیوار سمجھتا ہے مجھے
تُو تو میرے یار سمجھتا ہے مجھے
تجھے نہ ڈھونڈتے تو بہتر تھا
ہجر ہی کو پوجتے تو بہتر تھا
کیوں مجھے رُلا رُلا دیا میری جان اسکا جواب دے
اپنے پاس رکھ یہ رومال تُو میرے آنسوؤں کا حساب دے
تو ہی دستِ بد دعا ٹھہرا
تجھے ڈھونڈنا خطا ٹھہرا
ہم ہی ہیں جو عُقدے کھول دیتے ہیں
جو دل میں کھٹکے اُسے بول دیتے ہیں
اپنے نفس کے احتساب سے گزرے ہیں
ہم خود ساختہ عذاب سے گزرے ہیں
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
18
19
20
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top