Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
کاش کرتا میں تجھ سے وفا زندگی
زندہ رہنے کا تھا آسرا زندگی
بتانا چاہا مگر بتا نہ سکا
بہت چاہا مگر چاہ نہ سکا
یار کا در ہے، نظر کو جھکانا پڑے گا
گر پلک اٹھے گی تو تازیانہ پڑے گا
جتنی بھی ہو چاندنی، رات سے ڈر لگتا ہے
اندھیرے کی ملاقات سے ڈر لگتا ہے
پھر ذکرِ یار کر کے دیکھتے ہیں
الٹی سی کار کر کے دیکھتے ہیں
اب تو سلامتی کے سب آثار مر گئے
جِن پر تھا ناز سارے طرف دار مر گئے
زمیں کا دکھ تجھے سمجھ آیا ہوتا
تو جو خود بھی زمیں کا جایا ہوتا
اپنے سر پر یہ الزام کیسا لگا
میرے نام سے ہونا بدنام کیسا لگا
چلنا لازم ہو تو رستے نہیں دیکھے جاتے
عزم محکم ہو تو آبلے نہیں دیکھے جاتے
ترے جلوؤں میں روپوش ہونا چاہتا ہوں
ہوں قطرہ مگر دریا نوش ہونا چاہتا ہوں
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
8
9
10
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top