Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
میں گزرے لمحوں کی طرف دیکھ رہا ہوں
لگتا ہے صدیوں کی طرف دیکھ رہا ہوں
میری ہر گل رد کر دینا ایں
قسمیں توں وی حد کر دینا ایں
تیری کوئی گل ردّ نئیں کیتی
سچی دس میں حدّ نئیں کیتی
کچھ بھی ہو میرا نام نہیں ہونے دیتا
اور تو اور بدنام نہیں ہونے دیتا
عشق تو ڈھال ہے مرشد
یہی تو اسکا کمال ہے مرشد
تیری یادوں کو سنبھال رکھنا تھا
اب خیال آتا ہے ترا خیال رکھنا تھا
کون کہتا ہے بےسبب یاد آیا
سانس اُکھڑی وہ جب یاد آیا
عشق نے اُسے ہار نہیں ہونے دیا
جسے تو نے پار نہیں ہونے دیا
جبر کوئی کیا کرے
صبر کوئی کیا کرے
میرا قاتل اک نئی ادا مانگ رہا تھا
مجھ سے مرا خوں بہا مانگ رہا تھا
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
7
8
9
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top