Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
تری تلاش میں خود سے گزر نہ جاؤں میں
دعا کرو کہ ادھورا بکھر نہ جاؤں میں
ظلمتِ ہستی میں نورِ ذات کا جویا ہوں میں
موجِ دریاِ تلاطم، قلزمِ معنیٰ ہوں میں
ہم نے رستوں میں نیا اک نقشِ پا پیدا کیا
تب کہیں جا کر شعورِ ارتقا پیدا کیا
کثرتِ موجود میں رازِ نہاں کو دیکھنا
قطرے کی آغوش میں دریا رواں کو دیکھنا
خاک کے پیکر میں کوئی کیمیا ڈھونڈا کرے
تشنہ لب اب زندگی کا حوصلہ ڈھونڈا کرے
نورِ وحدت اب رگِ جاں میں سمایا جائے ہے
قطرہ اپنی اصل کی جانب بلایا جائے ہے
خدا کی طلب کا ارادہ کریں
محبت الٰہی زیادہ کریں
نورِ وحدت نے ہمیں ایسا چھپایا ہوگا
"کون آئے گا یہاں، کوئی نہ آیا ہوگا
کس کی آہٹ نے مرے دل کو جگایا ہو گا
کون آئے گا یہاں، کوئی نہ آیا ہو گ
عطا کر دے نئی منزل، مِرے اس شوقِ بستہ کو
عطا کر دے نئی منزل، مِرے اس شوقِ بستہ کو
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
2
3
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top