Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
مالک مجھے دستِ ہنر دے
کم مایہ ہوں، فتح و ظفر دے
آنکھوں میں بس کے خواب دیکھے ہیں
پھر سبھی ٹوٹے خواب دیکھے ہیں
تم سمجھے کسی زعم میں وارے گئے ہیں
خود تو نہیں مرے صاحب ، مارے گئے ہیں
میرے سب درد و الم بول پڑے ہیں
عرصے سے گونگے یہ غم بول پڑے ہیں
تجھے اے ضعیفی، اس قدر بھی نہ پا سکوں
کہ تا لحد اپنے قدموں چل کر نہ جا سکوں
رونا پڑے گا شہر کی ویرانی پر
جس شہر کی بنیاد ہی ہو پانی پر
چہرے کہہ رہے ہیں آئینہ نہیں کوئی
آئینہ حیراں ہے کہ چہرہ نہیں کوئی
اٹھانے سے پہلے آئینہ بول پڑا ہے
اسکے حق میں میرا چہرہ بول پڑا ہے
اٹھ میرے یار رقص کر لیں
ہو کے بیزار رقص کر لیں
کیسے کیسے غم دیکھے ہیں دنیا داری میں
اپنا غم بھول گئے اوروں کی غمخواری میں
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
12
13
14
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top