Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
چلنا ہی ہے تو رات سے ڈرنا کیسا
یہ زیست ہے حالات سے ڈرنا کیسا
اپنے ہی احباب دھوکہ دے گئے
جسم کو اعصاب دھوکہ دے گئے
یہ بھی صدمہ اٹھا لیا میں نے
دل کا نخرہ اٹھا لیا میں نے
ہر کام کو سوچ سمجھ کے تسلی سے کرنا
دن کا آغاز بھی رات کی مرضی سے کرنا
جب سے لہجہ کرخت ہونے لگا
پھل سے خالی درخت ہونے لگا
لطف و کرم کیا دار پہ چڑھ کر مانگے ہے
جاتے جاتے کیا دل ، مضطر مانگے ہے
اپنا گر احتساب ہو جائے
ذرّہ بھی آفتاب ہو جائے
دکھ کا جو بھی جہاں میں کسی کے مداوا ٹھرا
وہ ہی شخص اندھیرے میں یدِ بیضا ٹھرا
ہم دل کی آنکھوں سے نظر رکھتے ہیں
مصروف ہو کر بھی ہم خبر رکھتے ہیں
یہ بات بجا ہے اب میں گونگا ہوں
ہر لفظ خفا ہے اب میں گونگا ہوں
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
13
14
15
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top