Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
اڑا کے لائے مرا شوقِ نغمہ بار مجھے
کہیں بھی اب نہ ملے راہ میں قرار مجھے
سرشار ہے میرا دلِ پُر خوں بھی وفا میں
محسوس ہے تیرا ہی کرم اپنی بقا میں
نہ پندارِ ہستی، نہ فکرِ فنا ہے
مرے دل میں اب بس تری آرزو ہے
قصرِ ہستی میں ہے نقشِ رائیگاں کی جستجو
ذرہ ذرہ بن گیا ہے اک نشاں کی جستجو
شہرِ تیرہ میں ہے اب خوابِ سحر کی گفتگو
پھر لبِ ساحل ہے طوفانِ نظر کی گفتگو
روح پر طاری ہے اب ذوقِ طلب کا اک عذاب
دل پہ بھاری ہے کسی نقشِ طرب کا اک عذاب
ہم یوِں اونے پونے بک جاتے ہیں
جیسے ٹوٹے کھلونے بک جاتے ہیں
غم کی شدت میں ہنسا کرتے ہیں، بھرتے نہیں آہ
عظمتِ غم تو کسی طور نہیں کرتے تباہ
طلاطموں کے بیچ میں بھنور تو خود سفر میں ہے
کہ منزلوں کے بھید کا سفر ، تو خود سفر میں ہے
یہ رنج کیا ہیں خود پر گزرے تو ہم سمجھے
یہ الم سارے خود جو جھیلے تو ہم سمجھے
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
2
3
4
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top