Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
تیرا تصور جو کبھی جدا سا لگتا ہے
تکمیلِ ذات میں خلا سا لگتا ہے
بےوقت کھٹکھٹاتے ہیں دروازے میرے شہر کے لوگ
اک دوسرے پہ کستے ہیں آوازے میرے شہر کے لوگ
وہ جو دل کی گلی سے گزرے ہیں
تیرے خیال اجنبی سے گزرے ہیں
آسماں سے اترتا ہوں دریا فتح کرتا ہی رہوں گا
اونچ نیچ کا نہیں قائل ہموار اپنی سطح کرتا ہی رہوں گا
بڑی مشکل سے آیتِ ثواب ڈھونڈ لاتے ہیں
واعظ تفسیر میں عذاب ڈھونڈ لاتے ہیں
گریباں پکڑتا ہوں تو دامن چھوٹ جاتا ہے
راہزن پہ نظر کرتا ہوں تو رہبر لُوٹ جاتا ہے
دار و رسن کے درمیاں گھونسلہ ہمارا ہے
ہم پھر بھی جی رہے ہیں یہ حوصلہ ہمارا ہے
رسوائی کے میری ہوئے اسباب بہت ہیں
تنقید کو اپنے مرے احباب بہت ہیں
میرا خیال جو ناگہاں گزرا ہو گا
وہ لمحہ وبالِ جاں گزرا ہو گا
وہ جو صورتِ حجاب نظر آتے ہیں
بےحجابی میں عذاب نظر آتے ہیں
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
21
22
23
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top