Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
غم کی وادی میں درد کی انتہا گزرتی ہے
قیامت جسے کہتے ہیں بارہا گزرتی ہے
تمام عمر کیا عجب چاہتے رہے
ہم تمہیں بےسبب چاہتے رہے
برہنہ تن ہیں جو تیرگی میں رہتے ہیں
خوش لباس لوگ ہی روشنی میں رہتے ہیں
ہم کو حاصل یہ اعزاز رہے گا
تیرے گھر کا راستہ ہمراز رہے گا
بند آنکھوں سے نظارے ڈھونڈتا رہتا ہوں
پلکوں پہ ٹوٹے تارے ڈھونڈتا رہتا ہوں
اس درجہ معاملہ طے نہ ہوا
نظر سے دل تک فاصلہ طے نہ ہوا
اماوس کی رات ٹھہر سی گئی ہے
تاروں کی بارات ٹھہر سی گئی ہے
سب جاہ و حشم تجھ پہ نثار کروں
تیرے عشق میں خود کو خوار کروں
زندگی کا سفر تو کٹ چلا
میرا وجود حصوں میں بٹ چلا
کوئی اور راہ وہ اختیار کر گیا
میں اُس کے لوٹنے کا اعتبار کر گیا
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
22
23
24
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top