Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
دار و رسن میں رہتے ہیں
بقا کے چمن میں رہتے ہیں
میری صدا کے پتھر نے سناٹا توڑ ڈالا ہے
خاموشی چیخ اٹھی ہے بھانڈا پھوڑ ڈالا ہے
تیری خود ساختہ نظر بندی سے شہر کا منظر بدل گیا
صبح و مسا کا فرق مٹا دوپہر کا منظر بدل گیا
قہر اُگتا ہے اس لئے کہ عذاب برستا ہے
شبنم برستی تھی جہاں تیزاب برستا ہے
مقدر میں فقط دلاسہ کیوں ہے
سمندر میرے عہد کا پیاسہ کیوں ہے
تیری دعاؤں کا ثمر دیکھاہے
سفینے کی حفاظت میں بھنور دیکھا ہے
چلو کوئی تو ضابطہ طے ہوا
ٹوٹے گا اب نہ رابطہ طے ہوا
جبر کی جب انتہا ٹوٹی
زنجیرِ قفس بےصدا ٹوٹی
گرمئی رخسار سے خال خال جلتا رہا
تیرے قرب میں لمحہ لمحہ وصال جلتا رہا
بازار میں سارے اسباب اٹھا لایا ہوں
گھر سے ٹوٹے ہوئے خواب اٹھا لایا ہوں
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
23
24
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top