تحریرات

تصوف کی مسخ شدہ تصویر اور نئی نسل کی فکری غلامی

ہماری تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی رہا ہے کہ جب بھی کسی قوم میں علم، تحقیق اور شعور کی روشنی کمزور پڑتی ہے، تو وہاں جعلی روحانیت، جھوٹے کرامت فروش، اور نام نہاد صوفی مزاج بابے ابھرنے لگتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری اردو ادب...

محبت کی ہار میں جیت کا چراغ

محبت کبھی سود و زیاں کا کھیل نہیں ہوتی۔ یہ جذبہ ہے جو کبھی شرطوں میں پروان نہیں چڑھتا، نہ ہی جیت اور ہار کی مسافت جانتا ہے۔ یہاں تو اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر، محبوب کی خوشی کی راہ میں پلکیں بچھا دی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی دل...

آنسو… دل کی زبان اور لمسِ وفا

کہا جاتا ہے کہ مسکراہٹ ہر چہرے کا زیور ہے، اور ہر محفل کی رونق۔ یہ وہ تحفہ ہے جو ہم دنیا کے ہر شخص کو بانٹ سکتے ہیں، چاہے دل کی زمین بنجر ہو یا روح پر گھاؤ لگے ہوں۔ مسکراہٹ تو محض ایک خوبصورت پردہ ہے، جو اکثر...

ویران چوکھٹ، بے صدا دروازے

کبھی وہ دروازے تیرے قدموں کی چاپ کے منتظر تھے۔ دیواروں پر امید کے چراغ روشن تھے اور ہوا تیرے نام کی سرگوشیاں کرتی تھی۔ وقت گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، اور ہر لمحہ تیری دستک کی خواہش میں گزرا۔ وہ چوکھٹ جس پر کبھی تیری آہٹ کا گماں ہوتا...

دکھ کا تقدس اور بےحسی کا میزان

معاشرتی تانے بانے میں انسانی جذبات کو روایات اور عقائد کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ دکھ اگر قابلِ قبول سانچے میں ڈھل جائے تو ہمدردی اور تقدیس کا درجہ پا لیتا ہے، مگر جیسے ہی کوئی شخص اپنی تکلیفوں سے نکلنے کی کوشش کرے، وہی معاشرہ اسے واپس اسی...

کتبے کی ضرورت کیوں؟

کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ جب مٹی مٹی میں جا ملے گی، اور سانس کی ڈور ٹوٹ کر وقت کی گمنامی میں ڈوب جائے گی — تو اس کے بعد کون باقی بچے گا؟ نام؟ پہچان؟ یا بس چند مٹتی مٹتی یادیں؟ اور پھر دل کہتا ہے، کہ جسے...

تصوف: حقیقت، غلط فہمیاں اور اسلامی روح

تصوف اسلام کے باطنی پہلو کا نام ہے۔ یہ شریعت کے ظاہری اعمال کے ساتھ باطنی تزکیہ، نفس کی اصلاح، اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کی کوشش کو کہتے ہیں۔ تصوف کا اصل مقصد "اخلاص"، "توبہ"، "زہد"، "تقویٰ"، "توکل"، اور "محبتِ الٰہی" جیسے بنیادی اسلامی تصورات کو عملی...

تہہ و سطح: حقیقت کے دو افق

یہ محض ایک خیال نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے — جو ہمارے اندر کے اُس دریا کو دکھاتا ہے جس کی گہرائیاں ہمیں خود اپنی سطح سے بیگانہ کر دیتی ہیں۔ ہم ہمیشہ یہ سنتے آئے کہ جو نظر کے پردوں کے پیچھے ہے، وہی اصل ہے۔ کہ ہر سطح،...

جھکنے کا فن

بلندی کا شوق سب کو ہے، مگر بہت کم جانتے ہیں کہ بلندی کا راستہ جھکنے سے ہو کر گزرتا ہے۔ زمین سے جُڑی شاخ ہی پھل دیتی ہے، اور جو درخت اپنی قامت پر نازاں ہو، وہ صرف سایہ دیتا ہے—وہ بھی اس وقت تک جب تک ہوا کی...

وجود و شہود منزل ایک راہیں دو

کائنات کی وسعتوں میں دو راہرو ہیں—ایک جو خود کو حقیقت میں فنا کر دیتا ہے، اور دوسرا جو حقیقت کو اپنے وجود کے دریچوں سے دیکھتا ہے۔ ایک کے لیے ہر شے ایک ہی حقیقت کا پرتو ہے، اور دوسرے کے لیے حقیقت ایک آئینے میں نمودار ہونے والی...

Scroll to Top