افسانے
سوال سے آگے
رات بہت خاموش تھی۔ میں اپنے صوفی کے سامنے بیٹھا تھا اور کئی دنوں سے دل میں جمع ایک سوال آخر زبان پر آ ہی گیا۔ "حضور! سچ کیا ہے؟" انہوں نے میری طرف دیکھا، جیسے سوال نہیں بلکہ سوال کے پیچھے چھپی ہوئی بے قراری دیکھ رہے ہوں۔ کچھ...
سرخ چُوڑی
شہر شام کے غبار میں ڈوبا ہوا تھا۔ شور کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ٹریفک کے ہارن، لوگ جو اپنی باتوں میں وقت ضائع کر رہے تھے، چھابڑی والے اپنی چیخوں میں اپنی بقا تلاش کر رہے تھے سب کچھ ایک ہی تال میں دھڑک رہا تھا۔...
ہم اور ہمارے بچے
بیوی نے ایک دن شوہر سے کہا: "آپ کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری اپنی بھی ایک زندگی ہے۔ ہم اور ہمارے بچے ہی آپ کی پہلی ترجیح ہیں۔" وہ خاموش رہا۔ بات درست تھی۔ مگر شاید اس نے اسے اتنی شدت سے دل میں اتارا کہ اس کے...
کہانی ابھی باقی ہے
وہ کہانیاں لکھتا تھا مگر اختتام نہیں لکھ پاتا تھا۔ ہر بار جب کہانی اپنے آخری موڑ پر پہنچتی اور کسی کردار کی زندگی کو ایک نقطے پر ختم کرنا ہوتا تو اس کا قلم کاغذ پر ٹھہر جاتا۔ اسے لگتا جیسے وہ سیاہی سے کوئی جملہ نہیں بلکہ کسی...
روہڑی کے اس پار
رات 10 بجے کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر ٹرین کی سیٹی گونجی۔ پلیٹ فارم پر ہلچل بڑھ گئی۔ علی نے اپنے کندھے پر شال درست کی اور ڈبے میں داخل ہو گیا۔ وہ سندھ کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تھا، مگر زمینوں کی زنجیروں سے آزاد ہو کر زندگی...
داغ
گھر خوشیوں سے گونج رہا تھا۔ ماہ رُخ کی شادی تھی، اور ہر طرف چہل پہل تھی۔ ماں نے اسے گلے لگایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "بیٹی، آج سے تو راج کرے گی!" ماہ رُخ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا گئی، مگر اندر ایک عجیب...
جو مر کر بھی مجھ میں زندہ رہا
رات کا آخری پہر تھا۔ شہر سو چکا تھا مگر مہرو کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ کمرے میں جلتا ہوا مدھم چراغ دیوار پر عجیب و غریب سائے بنا رہا تھا۔ کبھی کوئی سایہ لمبا ہو کر چھت تک پہنچ جاتا اور کبھی سمٹ کر یوں غائب ہو...
عدم کا پرتو، نور کی سحر
رات کا سب سے گہرا پہر تھا جب وجود کی طنین اچانک بجنا بند ہو گئی۔ یوں لگا جیسے وقت نے اپنی سانس روک لی ہو اور کائنات نے ایک لمحے کے لیے اپنے پھیلتے ہوئے دامن کو سمیٹ لیا ہو۔ کمرے میں پھیلی خاموشی کسی پرانے قبرستان کی دھوپ...
ہجر، معجزہ اور خوفِ یقیں
وہ چلی گئی تو گھر وہی تھا۔ دیواریں وہی، دروازے وہی، پردے وہی اور شامیں بھی پہلے جیسی اترتی تھیں۔ مگر اُس کے جانے کے بعد گھر گھر نہیں رہا تھا۔ ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی، صرف اُس کی آواز کہیں نہیں تھی۔ وہ رات گئے تک اُس کی...
پیاس کا آخری کنواں
وہ شہر کے پرانے حصے میں واقع ایک چھوٹے سے فلاحی ادارے میں ملازم تھا۔ ادارے کا دفتر ایک ایسی حویلی میں تھا جس کی دیواروں پر وقت نے اپنے دستخط کر رکھے تھے۔ چھت کے پنکھے شور بہت کرتے تھے اور ہوا کم دیتے تھے، مگر وہاں بیٹھے لوگ...
