تحریرات

چاند کا دکھ

چاند ہر رات آسمان پر طلوع ہوتا ہے، مگر کیا کسی نے اس کی تنہائی کو محسوس کیا ہے؟ وہ جو کائنات کی وسعتوں میں بھٹکتا ہے، زمین کے قریب ہو کر بھی ہمیشہ دور رہتا ہے، کیا اس کی چمک کے پیچھے کوئی اداسی چھپی نہیں؟ چاند کی قسمت...

مہاجر یاد

میں وہ مہاجر یاد ہوں جسے کسی نے اپنے دل کی سرزمین سے بے دخل کر دیا۔ میں ایک ایسی یاد ہوں جس کی کوئی سرحد نہیں، کوئی وطن نہیں، صرف ایک بے نشان راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے ہر قدم پر میرا وجود مٹتا جاتا ہے۔ میں ایک...

خبر سے آگے کی کہانی

صحافت محض گزرے واقعات کی بازگشت نہیں، بلکہ وہ آئینہ ہے جو مستقبل کی دھند میں چھپے سائے دکھاتا ہے۔ یہ محض ماضی کا نوحہ یا حال کا مرثیہ نہیں، بلکہ آنے والے کل کی پیشانی پر لکھی ان تحریروں کو پڑھنے کا ہنر ہے جو ابھی دنیا کی آنکھ...

ایک مسلسل جنگ

زندگی کوئی ہموار راستہ نہیں، بلکہ کانٹوں سے بھری وہ راہگزر ہے جس پر صرف وہی چل سکتا ہے جو اپنے زخموں کو اپنی طاقت میں بدلنا جانتا ہو۔ عزت اور وقار انعام میں نہیں ملتے، بلکہ انہیں چھیننا پڑتا ہے، اپنی ہمت، اپنے صبر اور اپنے عمل سے۔ جو...

خاندانی نظام کا بحران

روایات اور جدیدیت کے درمیان کشمکش کبھی یہ گھر ایک شجر کی مانند ہوا کرتے تھے، جن کی جڑیں مضبوط، شاخیں سایہ دار اور پھل میٹھے ہوا کرتے تھے۔ دادا کی شفقت، دادی کی کہانیاں، والدین کا احترام اور بہن بھائیوں کی بے تکلف ہنسی—یہ سب مل کر ایک ایسا...

تعلیم یا ڈگری؟

پاکستانی نظامِ تعلیم کا المیہ کہیں کمرے میں بند درجنوں طلبہ خاموشی سے استاد کے رٹے رٹائے جملے سن رہے ہیں، اور کہیں ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے نوجوان بے روزگاری کے اندھیروں میں راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ تعلیم جو کبھی روشنی تھی، آج ایک ایسا بوسیدہ چراغ بن چکی...

طبقاتی تفریق

امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی خلیج شہر کے ایک حصے میں روشنیوں کی دنیا ہے—چمچماتی گاڑیاں، بلند و بالا عمارتیں، پرتعیش ہوٹل، مہنگے برانڈز، اور ایسی زندگیاں جن میں خوشیاں خریدنے کی طاقت ہے۔ اور اسی شہر کے دوسرے کونے میں اندھیرا ہے—ٹوٹے پھوٹے مکان، بھوک سے بلکتے بچے،...

خوابوں کے جنازے اور امکانات کی بند گلی

شہر کی سڑکوں پر ہزاروں نوجوان ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ نکلتے ہیں، ہاتھوں میں ڈگریاں، ذہن میں سوال، اور دل میں ایک عجیب سا خوف—"کیا میرے لیے کوئی جگہ ہے؟" وہ نوکری کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، مگر اکثر جواب وہی ہوتا ہے: "تجربہ چاہیے!" مگر...

زندگی اور موت کے بیچ بکتی سانسیں

کہیں ہسپتال کے دروازے پر تڑپتا مریض ہے، تو کہیں دوا کے بغیر دم توڑتی امید۔ کہیں ایک غریب عورت ایمرجنسی میں داخل ہونے کے انتظار میں زندگی کی بازی ہار جاتی ہے، تو کہیں کسی بوڑھے باپ کی آنکھوں کے سامنے اس کا بیٹا صرف اس لیے مر جاتا...

رشتے اور انا

معمولی باتوں پر بگڑتے رشتے کیسے سنواریں؟ رشتے درخت کی مانند ہوتے ہیں، انہیں وقت، محبت اور برداشت کی زمین میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ مگر آج، ہمارے اردگرد یہ درخت سوکھتے جا رہے ہیں، ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ ذرا سی تلخی، معمولی سی غلط فہمی، ایک بے جا انا—اور...

Scroll to Top