(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ وہ غلطی کر بیٹھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو غلطی ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے، مگر اس کی اصل آزمائش خطا کے بعد شروع ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ایک معمولی اشارے سے سنبھل جاتے ہیں، ایک مخلصانہ نصیحت سے اپنی سمت درست کر لیتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے گرد انا، خود پسندی اور خوش فہمی کی ایسی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں کہ سچ کی ہلکی سی آواز بھی ان کے دل تک نہیں پہنچ پاتی۔ پھر زندگی کو خود میدان میں اترنا پڑتا ہے، حالات کو خود بولنا پڑتا ہے، اور وقت کو خود ایک ایسا سبق لکھنا پڑتا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
بعض انسان آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بھی اپنا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی کمزوریوں کو دوسروں کی غلطیاں قرار دیتے ہیں، اپنی سختیوں کو اصولوں کا نام دیتے ہیں، اپنی خود غرضیوں کو مجبوریوں کا لباس پہنا دیتے ہیں اور اپنے رویوں کے زخموں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ مگر حقیقت زیادہ دیر تک پردے میں نہیں رہتی۔ ایک نہ ایک دن زندگی انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اسے اپنے ہی اعمال کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔
مکافاتِ عمل دراصل انتقام کا نام نہیں، بلکہ کائنات کے ایک گہرے توازن کا نام ہے۔ انسان جو کچھ دوسروں کے دلوں میں بوتا ہے، وقت کے کھیت میں وہی فصل اگنے لگتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے جذبات کو روند کر اپنی کامیابی کی عمارت تعمیر کرتا ہے، کبھی نہ کبھی اسے احساس ہوتا ہے کہ اینٹیں تو بہت جمع کر لیں، مگر بنیاد کمزور تھی۔ جو آنکھیں دوسروں کے آنسو دیکھ کر بے حس رہیں، کبھی کبھی انہی آنکھوں کو اپنی بے بسی کے آنسو دیکھنے پڑتے ہیں۔ جو دل دوسروں کے درد سے بے خبر رہے، وقت اسے درد کی زبان سمجھا دیتا ہے۔
زندگی کے بعض تجربات محض حادثات نہیں ہوتے، وہ انسان کے باطن کی اصلاح کے لیے آنے والے پیغامات ہوتے ہیں۔ کبھی ایک ناکامی غرور کو توڑ دیتی ہے، کبھی ایک جدائی تعلقات کی حقیقت سمجھا دیتی ہے، کبھی ایک نقصان انسان کو یہ سبق دے جاتا ہے کہ ہر چیز ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ شخص جو خود کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھ رہا ہوتا ہے، حالات کے ایک معمولی جھٹکے سے اپنی کمزوری پہچان لیتا ہے۔
مگر افسوس یہ ہے کہ انسان اکثر نرم آوازوں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور پھر زندگی کی بلند آواز سننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ والدین کی نصیحت، مخلص دوست کا مشورہ، کسی خیرخواہ کی تنبیہ اور ضمیر کی ہلکی سی خلش اگر بروقت سن لی جائے تو بڑے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن جب انسان مسلسل اپنے اندر کی آواز کو دباتا رہتا ہے تو پھر باہر کے حالات اس کے لیے ترجمان بن جاتے ہیں۔
سمجھداری ہمیشہ عمر بڑھنے سے نہیں آتی، کبھی کبھی ایک گہرا زخم بھی انسان کو وہ بصیرت دے دیتا ہے جو برسوں کی کتابیں نہیں دے سکتیں۔ کچھ سبق الفاظ سے نہیں سیکھے جاتے، انہیں وقت کی سخت زمین پر چل کر سیکھنا پڑتا ہے۔ کچھ حقیقتیں صرف اس وقت سمجھ آتی ہیں جب انسان خود اس تجربے سے گزرتا ہے جسے کبھی وہ دوسروں کی زندگی میں معمولی سمجھتا تھا۔
لیکن ایک باشعور انسان وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق لے لے، اسے خود آزمائشوں کی بھٹی میں جلنے کی ضرورت نہ پڑے۔ دانا وہ نہیں جو گرنے کے بعد اٹھ جائے، بلکہ دانا وہ ہے جو دوسروں کو گرتا دیکھ کر اپنا راستہ درست کر لے۔ کیونکہ زندگی ہر شخص کو موقع دیتی ہے، مگر ہر شخص کو ایک جیسا وقت نہیں دیتی۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرتا رہے۔ اپنے لہجے، اپنے رویوں، اپنے فیصلوں اور اپنے تعلقات کا جائزہ لیتا رہے۔ کیونکہ سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں جب انسان غلطی کرتا ہے، بلکہ وہ لمحہ ہے جب انسان غلطی کے بعد بھی خود کو درست سمجھتا رہتا ہے۔
وقت ایک خاموش عدالت ہے۔ یہاں فیصلے شور سے نہیں، نتائج سے ہوتے ہیں۔ یہاں دلیلیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور کردار بولنے لگتا ہے۔ یہاں انسان دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے، مگر اپنی حقیقت سے ہمیشہ نہیں بچ سکتا۔
آخرکار زندگی انسان کو وہی سمجھا دیتی ہے جسے وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ محبت کی زبان میں سیکھ لیتے ہیں اور کچھ لوگ حالات کی سخت زبان میں۔ عقل مند وہ ہے جو پہلی آواز پر رک جائے، کیونکہ جو شخص نرم دستک کو نظر انداز کرتا ہے، اسے کبھی کبھی دروازہ توڑنے والی آواز سننی پڑتی ہے۔
اور یہی زندگی کا ایک عظیم اصول ہے:
انسان اگر وقت کی نصیحت سن لے تو وقت اس کا رہنما بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ وقت کو نظر انداز کرے تو پھر وہی وقت اس کا سب سے سخت استاد بن جاتا ہے۔
