دل کی گلیوں میں اعتکاف

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

رات کے آخری پہر جب کائنات خاموشی کے گہرے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی اور نیند نے دنیا کو اپنی نرم چادر میں لپیٹ رکھا تھا, میں نے اپنے دل کی گلیوں کا رخ کیا۔ یہ وہی گلیاں تھیں جہاں کبھی تمناؤں کے چراغ روشن تھے, جہاں خوابوں کے درختوں پر امید کے پرندے بسیرا کرتے تھے, مگر آج وہاں ایک عجیب سا سناٹا تھا, جیسے وقت نے برسوں سے ان راستوں کو چھوا ہی نہ ہو۔
ان گلیوں کی فضا میں قدم رکھتے ہی محسوس ہوا کہ یہ ویرانی بیرونی نہیں بلکہ اندر کی تھی۔ یہاں کبھی خواہشوں کی بارشیں برسی تھیں, مگر اب ہر سمت گرد کے پردے تھے۔ میں نے ان راستوں پر چلنے سے پہلے اپنے نفس کو دہلیز پر اتار دیا, دنیا کی چمک دمک کو دل کے دامن سے جھاڑ دیا اور خود کو اپنے باطن کے سامنے کھڑا کر دیا۔
جب میں آگے بڑھا تو ایک پرانی محراب کے نیچے سکون بیٹھا دکھائی دیا, جیسے وہ مدتوں سے میرا انتظار کر رہا ہو مگر گرد کی تہوں میں دب کر پہچانا نہ جا رہا ہو۔ میں نے اسے جھاڑا تو دل نے پہچان لیا کہ یہی وہ سکون ہے جسے میں نے بازاروں, محفلوں اور خواہشوں کے ہجوم میں ڈھونڈا تھا مگر کبھی پا نہ سکا۔
ایک گوشے میں صبر سر جھکائے بیٹھا تھا, اس کی خاموشی میں ایک عمیق وقار تھا, جیسے وہ کسی مکالمے کا نہیں بلکہ کسی بیداری کے لمحے کا منتظر ہو۔ قریب ہی زہد ایک پرانی دیوار سے ٹیک لگائے تھا, مگر اس کے چہرے پر وہ روشنی نہ تھی جس کا ذکر اہلِ دل کی حکایتوں میں سنا تھا۔
اسی لمحے دل میں ایک فیصلہ پیدا ہوا کہ اب اس ویرانی کو یوں نہیں رہنے دینا۔ یہ گلیاں دوبارہ آباد کرنی ہیں۔ میں نے اپنے وجود کی جھاڑو اٹھائی, اپنی نیتوں, سوچوں اور یادوں کے کونوں کو صاف کرنا شروع کیا۔ خواہشوں کے بکھرے پتوں کو سمیٹا, حسرتوں کی گرد کو جھاڑا اور ندامت کے آنسوؤں سے زمین کو دھو دیا۔
اسی اثنا میں ایک صوفیانہ حکمت دل میں گونجی, دل کا حجرہ جب تک دنیا کے سامان سے خالی نہ ہو, معرفت کی روشنی اس میں ٹھہر نہیں سکتی۔
میں نے ایک ایک بوجھ دل سے اتارنا شروع کیا۔ جو حسرتیں روح پر بوجھ بن چکی تھیں انہیں وقت کے حوالے کر دیا۔ جو خوف راستہ روک رہے تھے انہیں تقدیر کے سپرد کر دیا۔ جب دل کا آنگن ہلکا ہونے لگا تو ایک عجب سی وسعت پیدا ہونے لگی۔
پھر ایک رات ایسا ہوا کہ خاموشی کے اندر سے ایک نرم سی روشنی ابھری۔ ایسا محسوس ہوا جیسے دل کے کسی بند دروازے پر دستک ہوئی ہو اور اندر سے ایک بھولا ہوا راز جاگ اٹھا ہو۔ یہ اعتکاف کا پہلا انعام تھا کہ انسان اپنے آپ سے آشنا ہونے لگتا ہے۔
اسی لمحے محسوس ہوا کہ روشنی نے دل کے دروازے پر دستک دی ہے۔ اس نے جیسے سرگوشی میں کہا, جب دل کی گلیاں خواہشوں کے ہجوم سے خالی ہو جائیں تو سکون ان میں آ کر بس جاتا ہے, اور جب سکون آ جائے تو معرفت کے چراغ خود بخود جل اٹھتے ہیں۔
تب مجھے معلوم ہوا کہ اعتکاف صرف مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ دل کی گلیوں کو صاف کرنے کا عمل ہے۔ جب انسان اپنے باطن کی دھول جھاڑ دیتا ہے تو اس کے اندر ایک نیا شہر آباد ہونے لگتا ہے۔
اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب دل کی انہی خاموش گلیوں میں نور قدم رکھتا ہے, اور انسان جان لیتا ہے کہ اصل سفر باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ اپنے اندر کی طرف ہوتا ہے۔
وہی لمحہ دراصل اعتکاف کی معراج ہے, جب انسان اپنے دل کے شہر میں رب کی موجودگی کا احساس کر لیتا ہے اور پھر اس بستی کی ہر گلی نور سے بھر جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top