(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی زندگی میں بعض دکھ ایسے بھی آتے ہیں جو آنکھوں سے زیادہ روح کو زخمی کرتے ہیں۔ یہ وہ درد نہیں ہوتے جن کی وجہ سے انسان چیخ پڑے یا فریاد کرے، بلکہ یہ وہ کرب ہوتا ہے جو خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے؛ کبھی نم آنکھیں اسے بیان کرتی ہیں، کبھی غیر ضروری مسکراہٹیں اور کبھی بے سبب طویل خاموشیاں۔
عجیب بات یہ ہے کہ زندگی کے سب سے گہرے زخم اکثر دشمن نہیں دیتے۔ یہ زخم وہ لوگ دیتے ہیں جن کی خوشی میں ہمیں اپنی خوشی دکھائی دیتی ہے، جن کی مسکراہٹ کے لیے ہم اپنی خواہشوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں اور جن کے سکون کے لیے ہم اپنے اضطراب سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت انسان کے دل کو بے حد حساس بنا دیتی ہے۔ جہاں دل بے حساب لگاؤ پیدا کر لیتا ہے، وہاں توقعات بھی لاشعوری طور پر جنم لے لیتی ہیں، اور توقع کے ٹوٹنے کی آواز باہر نہیں، اندر سنائی دیتی ہے۔
انسان کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ بعض رشتوں میں اپنی تمام حدیں عبور کر جاتا ہے، مگر پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ دوسرا شخص اپنے دل کے گرد ایک حد قائم رکھتا ہے، ایک ایسی سرحد جہاں ہماری محبت، ایثار اور قربانیاں بھی داخل نہیں ہو سکتیں۔ یہی احساس سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے؛ یہ احساس کہ ہم نے جس رشتے کو اپنی پوری دنیا سمجھا، وہ کسی اور کے لیے زندگی کا صرف ایک گوشہ تھا۔
بعض زخم نئے نہیں ہوتے، وہ بہت پرانے ہوتے ہیں۔ وقت انہیں مندمل نہیں کرتا بلکہ محض ان پر خاموشی کی تہہ جما دیتا ہے۔ پھر ایک دن کوئی لمحہ، کوئی یاد، کوئی جملہ یا کوئی رویہ اس تہہ کو ہٹا دیتا ہے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ جس درد کو وہ دفن سمجھ بیٹھا تھا، وہ تو اب بھی پوری شدت کے ساتھ اس کے اندر زندہ ہے۔
مگر یہاں زندگی کا ایک عظیم سبق پوشیدہ ہے۔ درد ہمیشہ ہمیں توڑنے نہیں آتا، بعض اوقات وہ ہمیں اپنے وجود کی گہرائیوں سے متعارف کروانے آتا ہے۔ دکھ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ محبت اور ملکیت دو الگ حقیقتیں ہیں؛ ہر محبت پانے کے لیے نہیں ہوتی، ہر خلوص کا صلہ خلوص نہیں ہوتا اور ہر وفاداری کے جواب میں وفاداری نہیں ملتی۔ اس کے باوجود محبت کرنے والا دل محبت سے دست بردار نہیں ہوتا، کیونکہ محبت اس کی ضرورت نہیں، اس کی فطرت ہوتی ہے۔
اس لیے اگر کبھی دل دکھے، اگر کبھی پرانے زخم تازہ ہو جائیں اور اگر کبھی خود کو سنبھالنا دشوار محسوس ہو، تو یاد رکھیے کہ حساس دلوں کی آزمائش بھی گہری ہوتی ہے اور ان کا ظرف بھی۔ جو دل ٹوٹنے کے باوجود نفرت نہیں سیکھتے، جو محرومی کے باوجود بددعا نہیں دیتے اور جو دکھ کے باوجود دوسروں کے لیے خیر ہی چاہتے ہیں، درحقیقت وہی دل انسانیت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔
بعض لوگ ہمارے نصیب میں ہمیشہ کے لیے نہیں لکھے جاتے، لیکن ان سے وابستہ تجربات ہمیں ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔ اور بعض درد، زندگی سے شکایت نہیں بلکہ شعور کا وہ دروازہ ہوتے ہیں جو صرف ٹوٹے ہوئے دلوں پر کھلتا ہے۔
