وہ بچے جو زمین پر رحمت اور آسمان پر والدین کی شفاعت بن کر آتے ہیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

بعض بچے دنیا میں آتے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں کھلونے نہیں، امتحان ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں عام بچوں کی طرح شرارتیں نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ایسی خاموشی ہوتی ہے جو گھر کے ہر فرد کے دل میں اتر جاتی ہے۔ وہ زندگی کی دوڑ میں دوسروں کی طرح قدم نہیں رکھ پاتے، لیکن وہ اپنے والدین کو صبر، محبت، قربانی اور انسانیت کے وہ سبق سکھا جاتے ہیں جو بڑے بڑے فلسفے اور کتابیں بھی نہیں سکھا سکتیں۔
شدید آٹزم، نابینائی، جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ جینے والے بچے محض خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے نہیں ہوتے؛ وہ زندگی کی ترجیحات ازسرِ نو مرتب کر دیتے ہیں۔ وہ والدین کو سکھاتے ہیں کہ محبت صرف خوشیوں میں مسکرانے کا نام نہیں، بلکہ تھکن، بے خوابی، غیر یقینی اور مسلسل اضطراب کے باوجود کسی کے لیے ہر روز دوبارہ کھڑے ہو جانے کا نام ہے۔
دنیا عموماً ایسے والدین کی قربانیوں کو جزوی طور پر دیکھتی ہے۔ وہ شاید ایک تھکی ہوئی ماں کے چہرے کی شکنیں دیکھ لیتی ہے یا ایک باپ کی خاموشی محسوس کر لیتی ہے، مگر اس خاموش جدوجہد کی گہرائی کو نہیں سمجھ پاتی۔ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایسے والدین اپنی زندگی کا ہر فیصلہ اپنے بچے کے اعصابی سکون، اس کی روٹین، اس کے خوف اور اس کی ضرورتوں کے مطابق ترتیب دیتے ہیں۔ وہ اپنی نیند، اپنی آزادی، اپنی خواہشوں اور بعض اوقات اپنے خوابوں تک کو ملتوی کر دیتے ہیں تاکہ ان کے بچے کو دنیا کچھ کم تکلیف دہ محسوس ہو۔
مگر اس سفر کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کی پرورش صرف والدین کو جسمانی طور پر نہیں تھکاتی، بلکہ ان کے ازدواجی رشتے کو بھی مسلسل آزماتی ہے۔ مسلسل بے خوابی، معاشی دباؤ، مستقبل کا خوف اور ہر وقت چوکس رہنے کی کیفیت دو انسانوں کو اندر سے نڈھال کر سکتی ہے۔
ایسے میں میاں بیوی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک ہی محاذ پر لڑنے والے دو سپاہی ہیں۔ کبھی ماں تھک جاتی ہے، کبھی باپ ٹوٹ جاتا ہے۔ کبھی ایک کی آنکھیں نم ہوتی ہیں اور کبھی دوسرے کی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔ ایسے لمحوں میں ایک دوسرے کا محاسبہ نہیں، ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے۔
خصوصی طور پر شوہروں کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ایک اسپیشل نیڈز بچے کی ماں صرف ایک ماں نہیں رہتی؛ وہ نرس، معلمہ، مترجم، محافظ، معالج اور اکثر ایک چوبیس گھنٹے کی کیئرگیور بن جاتی ہے۔ اس کی تھکن عام تھکن نہیں ہوتی، اس کی بے خوابی عام بے خوابی نہیں ہوتی، اور اس کے خوف عام خوف نہیں ہوتے۔ ایسے میں ایک شوہر کا سب سے بڑا کمال یہ نہیں کہ وہ مسائل حل کر دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو یہ احساس دلائے کہ وہ اس جنگ میں اکیلی نہیں ہے۔
اور جو لوگ اس کٹھن سفر کے بوجھ سے گھبرا کر اپنے اسپیشل نیڈز بچے اور اس کے ساتھ خاموشی سے لڑتے، جاگتے، ٹوٹتے اور سنبھلتے اپنے شریکِ حیات کو تنہا چھوڑ جاتے ہیں، وہ صرف ایک ذمہ داری سے نہیں بھاگتے، بلکہ اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم امانت، ایک بڑے اجر اور رحمت کے دروازے سے خود کو محروم کر لیتے ہیں۔ عظمت بوجھ اتار پھینکنے میں نہیں، کسی کے بوجھ میں اپنا کندھا شامل کر دینے میں ہے۔
بہادری بوجھ چھوڑ دینے میں نہیں، بوجھ بانٹ لینے میں ہے۔
معاشرہ بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ ایسے خاندانوں کو مشوروں سے زیادہ ہمدردی، تنقید سے زیادہ قبولیت اور سوالوں سے زیادہ عملی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی چند گھنٹوں کی مدد، ایک خیرخواہ جملہ، ایک غیر مشروط قبولیت اور ایک بے لوث دعا بھی کسی تھکے ہوئے والدین کے لیے نئی ہمت کا سبب بن سکتی ہے۔
اور پھر ایک نہایت اہم حقیقت یہ ہے کہ ایسے بچے محض آزمائش نہیں ہوتے، وہ رحمت بھی ہوتے ہیں۔ وہ والدین کے دلوں میں بے لوث محبت پیدا کرتے ہیں، انہیں عاجزی سکھاتے ہیں، انہیں انسانوں کے درد سے آشنا کرتے ہیں اور ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جو آنکھیں اپنے خصوصی بچے کے لیے جاگتی ہیں، جو ہاتھ اس کی دیکھ بھال میں تھکتے ہیں، اور جو دل اس کے لیے ہر روز دعائیں کرتے ہیں، ان کی محنت اللہ کے ہاں ضائع نہیں جاتی۔
پس اگر آپ ایسے بچے کے والد یا والدہ ہیں تو اپنی تھکن کو اپنی ناکامی نہ سمجھیں۔ اگر کبھی آپ ٹوٹ جائیں، رو پڑیں، بیٹھ جائیں یا کچھ دیر کے لیے خالی محسوس کریں تو یہ آپ کی کمزوری نہیں، آپ کی انسانیت ہے۔ آپ ہر روز ایک ایسی ذمہ داری نبھا رہے ہیں جس کا وزن صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس راستے سے گزرا ہو۔
ہمت رکھیے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامیے۔ اپنے بچے کو بوجھ نہیں، امانت سمجھیے۔ اپنی محبت کو تھکن کے نیچے دفن نہ ہونے دیجیے۔ اور یہ یقین رکھیے کہ آپ کے ہر آنسو، ہر قربانی، ہر جاگی ہوئی رات اور ہر خاموش استقامت کو وہ ذات دیکھ رہی ہے جو کسی ذرے کے برابر نیکی کو بھی ضائع نہیں ہونے دیتی۔
شاید یہی ایسے بچوں کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ وہ اپنے والدین کو سکھا دیتے ہیں کہ محبت صرف خوشیوں کے دنوں کا نام نہیں، بلکہ تھکے ہوئے دل کے ساتھ بھی کسی کے لیے ہر روز دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ اور یہی وہ محبت ہے جس کے لیے زمین پر صبر اور آسمان پر بہترین اجر کی بشارت رکھی گئی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top