(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تاریخ کی سب سے بڑی المیہ داستانیں توپوں، میزائلوں اور جنگی بحری بیڑوں سے نہیں لکھی گئیں؛ وہ اس دن رقم ہوئیں جب انسان نے اپنے ضمیر کی قیمت لگانا سیکھ لیا۔ ریاستیں بھی دراصل انسانوں ہی کے اجتماعی کردار کا نام ہیں۔ جب افراد اپنے اصولوں سے دستبردار ہو جائیں تو قومیں بھی آہستہ آہستہ اپنے مقدر کی مالک نہیں رہتیں بلکہ دوسروں کے فیصلوں کی تابع بن جاتی ہیں۔
ہمارا زمانہ علم کی فراوانی کا زمانہ ہے، مگر بصیرت کی قلت کا۔ ذرائع ابلاغ کے شور، منڈی کی چمک اور طاقت کے فریب نے ایک ایسی نفسیات پیدا کر دی ہے جس میں کامیابی کا معیار کردار نہیں بلکہ حصولِ منفعت بن گیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہ گیا کہ کیا درست ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا مفید ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں تہذیبیں اپنی روح کھونے لگتی ہیں۔
ہر دور کی سامراجیت صرف سرحدوں پر قبضہ نہیں کرتی؛ وہ پہلے ذہنوں میں داخل ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کو اس بات پر آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ حق اور مصلحت کے درمیان مصلحت، اور عزت و منفعت کے درمیان منفعت کو منتخب کریں۔ جب یہ سوچ اجتماعی شعور بن جائے تو قومیں باہر سے نہیں، اندر سے شکست کھا جاتی ہیں۔
کسی معاشرے کی حقیقی غربت وسائل کی کمی نہیں بلکہ اخلاقی افلاس ہے۔ جب دیانت کو سادگی اور موقع پرستی کو ذہانت سمجھ لیا جائے، جب منصب خدمت کے بجائے غلبے کا ذریعہ بن جائے، جب زبانیں سچ کہنے سے ڈرنے لگیں اور قلم مفادات کے تابع ہو جائے، تب ریاستیں بظاہر قائم رہتی ہیں مگر ان کی معنوی بنیادیں ریت کی طرح بکھرنے لگتی ہیں۔
دنیا کی بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کریں گی؛ تاریخ کا یہی دستور ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے فیصلے بھی خود کرتے ہیں یا ہر بار اپنے ضمیر کی باگ کسی نئی مصلحت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں؟ قوموں کی تقدیر بیرونی دباؤ سے کم اور اندرونی کمزوری سے زیادہ بدلتی ہے۔ جس معاشرے کے افراد اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات پر قابو نہیں پا سکتے، وہ بڑے قومی مفادات کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
آنے والی صدیوں کا سب سے بڑا معرکہ زمینوں یا وسائل کا نہیں، انسان کے باطن کا معرکہ ہے۔ جو قومیں اپنے اخلاقی وجود، فکری خودمختاری اور اجتماعی وقار کی حفاظت کر لیں گی، وہی تاریخ کے طوفانوں سے بچ سکیں گی۔ اور جو اپنے ضمیر کو وقتی فائدوں کی منڈی میں رکھ دیں گی، ان کے پاس شاید دولت، ہتھیار اور عمارتیں تو رہ جائیں، مگر ان کے پاس اپنا مستقبل نہیں رہے گا۔
قوموں کی بقا کا راز عسکری قوت سے پہلے کردار کی قوت میں پوشیدہ ہے، کیونکہ جب ضمیر بیدار ہو تو کمزور قومیں بھی تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور جب ضمیر مر جائے تو طاقت ور سلطنتیں بھی اپنے ہی ملبے تلے دفن ہو جاتی ہیں۔
