شکستِ دل سے عرفانِ رب تک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات کا ایک نہایت لطیف مگر حیران کن قانون یہ ہے کہ مادی دنیا جسے شکست، زوال اور تخریب کا نام دیتی ہے، روحانی دنیا اسی کو تعمیر، ارتقا اور تکمیل کی پہلی اینٹ قرار دیتی ہے۔ انسان جن حادثات کو اپنے وجود کا انہدام سمجھتا ہے، حقیقت میں وہی اس کے باطن کی نئی تخلیق کا آغاز ہوتے ہیں۔ قدرت اکثر اُن دروازوں کو بند کرتی ہے جنہیں انسان نجات سمجھ بیٹھتا ہے، تاکہ وہ اُس دروازے تک پہنچ جائے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔
انسانی تعلقات کی بے ثباتی، رویّوں کی سفاکی اور لفظوں کی بے رحم دھار بظاہر دل کو زخمی اور وجود کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے جیسے امید کی ساری فصل جل گئی ہو اور دل کی سرزمین ایک بنجر، سنگلاخ پہاڑ میں بدل گئی ہو، جہاں آرزو کا کوئی چشمہ باقی نہ رہا ہو۔ مگر بصیرت کی آنکھ اسی ویرانی میں ایک اور منظر دیکھتی ہے۔ وہ جان لیتی ہے کہ یہ بنجر پن سزا نہیں، تطہیر ہے؛ یہ ویرانی محرومی نہیں، بلکہ اُن جھوٹے سہاروں کی تدفین ہے جنہیں انسان نے رب سے زیادہ معتبر سمجھ لیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کبھی کبھی مخلوق کے ہاتھوں انسان کے تمام سہارے اس لیے توڑ دیتا ہے کہ اس کے دل میں غیر اللہ کے لیے قائم ہر ستون منہدم ہو جائے۔ جب دنیا کے تمام دعوے دار اپنی بے رخی سے مٹی کے محل گرا دیتے ہیں، تب انسان پہلی بار جانتا ہے کہ مخلوق کے ہاتھ صرف ساتھ چھوڑ سکتے ہیں، سنبھال نہیں سکتے۔ یہی اضطرار وہ دہلیز ہے جہاں عقل عاجز ہو جاتی ہے، نفس خاموش ہو جاتا ہے اور روح اپنے رب کی آواز سننے لگتی ہے۔
رویّوں کی ہر تلوار جب مخلوق پر اعتماد کے تار کاٹتی ہے تو دل، پہلے مجبوری سے اور پھر محبت سے، اُس ذات کی طرف رجوع کرتا ہے جو مسبب الاسباب ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ یہ سنگلاخ پہاڑ دراصل اُن راستوں کو بند کرنے کے لیے کھڑے کیے گئے تھے جو انسان کو منزل سے دور لے جا رہے تھے۔ دنیا کا انکار دراصل رب کی طرف سے ایک خاموش اقرار تھا؛ ایک ایسی دعوت جسے انسان دکھ سمجھتا رہا، حالانکہ وہ قرب کا پیغام تھی۔
روح جب مخلوق سے ہر امید کھو دیتی ہے تو پہلی مرتبہ خالق پر کامل اعتماد سیکھتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب دعا رسم نہیں رہتی، سانس بن جاتی ہے؛ سجدہ عبادت سے بڑھ کر پناہ بن جاتا ہے؛ اور رب صرف ایک عقیدہ نہیں رہتا بلکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بن جاتا ہے۔ اس مقام پر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ دل کو توڑنے والا ہر سبب دراصل دل کو اُس کے اصل مالک کے حوالے کرنے کا ذریعہ تھا۔
تب انسان یہ راز پا لیتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہر خواہش کا پورا ہو جانا نہیں، بلکہ ہر جھوٹے سہارے کا ٹوٹ جانا ہے۔ کیونکہ جب تک دل غیر اللہ سے آباد رہتا ہے، اس میں رب کی کامل تجلی کے لیے گنجائش پیدا نہیں ہوتی۔ شکستہ دل دراصل وہ آئینہ ہے جس پر دنیا کی گرد اتر چکی ہوتی ہے، اس لیے اس میں پہلی بار حقیقتِ مطلق کا عکس صاف دکھائی دیتا ہے۔
پس دل کی شکست، اگر صبر، شعور اور رضا کے ساتھ قبول کر لی جائے، تو وہ شکست نہیں رہتی؛ وہ عرفان کا دروازہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آنسو معرفت میں ڈھل جاتے ہیں، تنہائی انس میں بدل جاتی ہے، محرومی قرب کا عنوان بن جاتی ہے، اور انسان جان لیتا ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندے کو صرف دنیا سے محروم نہیں کرتا؛ وہ اسے اپنے سوا ہر سہارے سے خالی کرتا ہے تاکہ اسے اپنی ذات سے بھر دے۔ یہی شکستِ دل کا معراج ہے، اور یہی عرفانِ رب کی ابتدا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top