سایہ نہ ملے تو دھوپ سے رشتہ نبھا لو

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسانی زندگی میں سب سے بڑے دکھوں میں سے ایک دکھ یہ ہے کہ آدمی اپنی محبت، اپنی محنت، اپنی وفاداری اور اپنے خلوص کے بیج کسی کے دل کی زمین میں بوئے، انہیں اپنے لہو سے سینچے، ان کی آبیاری اپنی دعاؤں سے کرے، ان کی حفاظت اپنی نیندوں اور خواہشوں کی قربانی دے کر کرے، اور پھر ایک دن وہی درخت، جسے اس نے اپنی چاہت کے موسموں میں پروان چڑھایا تھا، اس کے لیے سایہ فراہم کرنے سے انکار کر دے۔ انسان کو اس لمحے صرف محرومی کا احساس نہیں ہوتا بلکہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی ذات کا ایک حصہ اپنی جڑوں سمیت اکھڑ گیا ہو۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اکثر انسان کا ظرف آزمائش میں پڑ جاتا ہے۔ محبت جب صلے سے محروم ہو جائے تو دل میں شکوہ پیدا ہوتا ہے، شکوے سے رنجش جنم لیتی ہے، رنجش سے تلخی پیدا ہوتی ہے، اور تلخی آہستہ آہستہ بددعا کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ جس درخت نے اسے سایہ نہ دیا، وہ کسی کو بھی سایہ نہ دے؛ جس نے اس کے دل کو دکھایا، وہ خوشی سے بھی محروم رہے؛ جس نے اس کی توقعات توڑ دیں، اس کی شاخیں بھی بے برگ ہو جائیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ خواہش محبت نہیں، بلکہ محبت کے لباس میں ملبوس انا کا زخم ہے۔
محبت کی سب سے اعلیٰ صورت یہ نہیں کہ ہمیں بدلے میں محبت مل جائے، بلکہ اس کی بلند ترین منزل یہ ہے کہ ہم اپنی نیکی کو اپنے حقِ ملکیت میں تبدیل نہ کریں۔ ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ چونکہ ہم نے کسی کے لیے کچھ کیا ہے، اس لیے اب اس کے دل، اس کی توجہ، اس کے رویے اور اس کے فیصلوں پر بھی ہمارا حق قائم ہو گیا ہے۔ حالانکہ محبت اگر عطیہ ہے تو اس کی واپسی کا تقاضا اسے تجارت بنا دیتا ہے۔
درخت کا کام بڑھنا ہے، سایہ دینا ہے، پھل پیدا کرنا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے سائے میں وہی شخص بیٹھے جس نے اسے لگایا تھا۔ بعض اوقات ایک مالی درخت اگاتا ہے، لیکن اس کے سائے سے فائدہ کوئی مسافر اٹھا لیتا ہے۔ ایک شخص کنواں کھودتا ہے، مگر اس کا پانی کسی اور کی پیاس بجھا دیتا ہے۔ ایک چراغ کوئی اور جلاتا ہے، مگر اس کی روشنی کسی تیسرے شخص کے راستے کو منور کر دیتی ہے۔ کائنات میں فیض کا سفر اکثر ان راستوں سے گزرتا ہے جن کا تعین انسان کی خواہشات نہیں بلکہ حکمتِ الٰہی کرتی ہے۔
اس لیے اگر آپ کا بویا ہوا درخت آپ کو سایہ دینے سے انکار کر دے تو دھوپ میں کھڑے ہو جائیے۔ دھوپ تکلیف دے سکتی ہے، مگر وہ آپ کے ظرف کو جلا کر راکھ نہیں بناتی؛ بددعا ایسا کر دیتی ہے۔ دھوپ انسان کے جسم کو تھکا دیتی ہے، لیکن بدخواہی اس کی روح کو تھکا دیتی ہے۔ دھوپ عارضی ہوتی ہے، مگر دل میں پیدا ہونے والی کدورت برسوں کا اندھیرا بن سکتی ہے۔
بعض اوقات ہمیں زندگی میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم لوگوں کی تقدیر نہیں ہوتے، صرف اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہوتے ہیں۔ ممکن ہے جس شخص کے لیے ہم نے سب کچھ کیا، اس کی زندگی میں ہمارا کردار محض ایک مرحلہ ہو۔ ممکن ہے ہماری محبت اس کے لیے ایک زینہ ہو جس کے ذریعے وہ کسی اور مقام تک پہنچ جائے۔ ممکن ہے ہم نے جو شجر لگایا تھا، وہ کسی ایسے مسافر کے لیے سایہ بننے والا ہو جو ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا۔ اگر ایسا ہے تو اس پر رنجیدہ ہونے کے بجائے مطمئن ہونا چاہیے کہ ہمارے ہاتھوں سے کوئی خیر وجود میں آئی۔
انسان کی عظمت اس بات میں نہیں کہ اسے ہمیشہ وفاداری اور اعتراف ملے، بلکہ اس کی عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنی خیر کو دوسروں کے رویوں کے تابع نہ کرے۔ نیکی جب صرف جواباً نیکی کے لیے کی جائے تو اس کا دائرہ محدود رہتا ہے، لیکن جب نیکی اس احساس کے ساتھ کی جائے کہ خیر کو پھیلنا ہے، خواہ اس کا پھل کسی بھی ہاتھ میں جا گرے، تب انسان اپنے نفس کی تنگ سرحدوں سے نکل کر ایک وسیع انسانی مرتبے پر پہنچ جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے زخموں کو انتقام میں نہیں بدلا، انہوں نے نسلوں کو بچا لیا۔ جنہوں نے اپنے دکھ کو نفرت کی آگ بنانے کے بجائے رحمت کی بارش بنا دیا، ان کی ذات اپنے زمانے سے آگے نکل گئی۔ بعض اوقات ایک لمحے کی درگزر صدیوں کی روشنی بن جاتی ہے۔ ایک بددعا صرف ایک فرد کو نہیں جلاتی، اس کے شعلے آنے والے امکانات کو بھی راکھ کر سکتے ہیں۔ اور ایک دعا صرف ایک شخص کے لیے خیر نہیں بنتی، وہ ان تمام راستوں کے لیے رحمت بن سکتی ہے جو ابھی وجود میں بھی نہیں آئے۔
اس لیے جب کبھی زندگی آپ کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے جہاں آپ کے لگائے ہوئے درخت کی شاخیں آپ کی طرف نہ جھکیں، تو دل کو اتنا وسیع کر لیجیے کہ آپ یہ کہہ سکیں: میں نے اسے اپنے لیے نہیں، خیر کے لیے لگایا تھا۔ اگر اس کا سایہ میرے نصیب میں نہیں تو شاید کسی اور کے مقدر میں ہو۔ اگر میری محنت کا پھل میرے حصے میں نہیں آیا تو کیا ہوا، کسی پیاسے کو ٹھنڈک مل جائے، کسی تھکے ہوئے مسافر کو آرام میسر آ جائے، کسی بے آسرا انسان کو کچھ دیر کا سکون مل جائے، تو میری محنت ضائع نہیں ہوئی۔
کیونکہ محبت کی سب سے بلند تعبیر یہی ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں اگائی ہوئی بہاروں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ چھوڑ دے۔ دھوپ میں کھڑا رہنا کبھی کبھی بہت بڑا ظرف مانگتا ہے، لیکن دوسروں کے لیے سایہ بن جانے والی شاخوں کو بددعا نہ دینا، یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے دکھ سے بڑا ہو جاتا ہے، اپنی محرومی سے بلند ہو جاتا ہے، اور اپنی ذات کی حدود سے نکل کر رحمت کا استعارہ بن جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top