(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کا سب سے کٹھن سبق یہ نہیں کہ کون ہمارا اپنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون کبھی ہمارا تھا ہی نہیں۔ انسان کی بیشتر اذیتیں دشمنوں سے نہیں ملتیں، بلکہ ان توقعات سے جنہیں ہم نے محبت کا نام دے رکھا ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کو وہ مقام دے دیتے ہیں جس کے وہ اہل نہیں ہوتے، پھر جب وہ ہماری قدر نہیں کرتے تو ہمیں ان کی بے وفائی سے زیادہ اپنی خوش فہمی زخمی کرتی ہے۔
عجیب المیہ ہے کہ انسان قیمتی چیزوں کی حفاظت تو بہت احتیاط سے کرتا ہے، مگر اپنی روح ہر اس شخص کے حوالے کر دیتا ہے جو چند میٹھے لفظ بول دے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ الفاظ کا حسن، کردار کی سچائی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ ہر مسکراہٹ اخلاص نہیں ہوتی اور ہر قربت محبت نہیں ہوتی۔
رشتے کبھی انسان کو نہیں توڑتے، رشتوں کے بارے میں ہمارے وہم توڑتے ہیں۔ ہم دوسروں کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کی حقیقت سے نہیں۔ ہم اپنی وفا کو ان کی وفا سمجھ لیتے ہیں، اپنی نیت کو ان کی نیت کا پیمانہ بنا لیتے ہیں، اور پھر ایک دن حقیقت آہستہ سے آ کر بتاتی ہے کہ آئینہ صاف تھا، چہرہ نہیں۔
زندگی میں کچھ لوگ بارش کی طرح آتے ہیں؛ چند لمحوں کے لیے خوشبو بکھیرتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ کچھ لوگ سایہ بن کر ساتھ چلتے ہیں، لیکن جیسے ہی دھوپ تیز ہوتی ہے، غائب ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموش درختوں کی مانند ہوتے ہیں؛ وہ شور نہیں کرتے، مگر طوفان میں بھی کھڑے رہتے ہیں۔دانائی اس میں ہے کہ پہچان لیا جائے کون لمحاتی مسافر ہے اور کون عمر بھر کا سہارا۔
ہر تعلق کو بچانا محبت نہیں، بعض تعلقات کو چھوڑ دینا بھی محبت ہی کی ایک اعلیٰ صورت ہے؛ مگر یہ محبت دوسروں سے نہیں، اپنی روح سے ہوتی ہے۔ خود کو ایسے تعلق کے حوالے کر دینا جو آپ کی عزت، سکون اور وقار کو آہستہ آہستہ کھاتا رہے، ایثار نہیں، خود پر ظلم ہے۔ اور ظلم خواہ دوسروں پر ہو یا اپنی ذات پر، آخرکار انسان کے اندر کی روشنی بجھا دیتا ہے۔
یاد رکھیے! محبت کا مقصد کسی کی دہلیز پر اپنی شناخت گم کر دینا نہیں، بلکہ ایسی رفاقت پانا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کی انسانیت کو وسعت دیں۔ اگر کسی تعلق میں آپ کو بار بار خود کو ثابت کرنا پڑے، اپنی خاموشی کی وضاحت دینی پڑے، اپنے خلوص کے ثبوت پیش کرنے پڑیں، تو وہاں محبت نہیں، احتساب چل رہا ہے۔
کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کسی نئے انسان کو پا لینا نہیں ہوتی، بلکہ کسی غلط انسان کو چھوڑ دینا ہوتی ہے۔ کیونکہ بعض لوگ آپ کی زندگی سے نکل کر نقصان نہیں کرتے، بلکہ نقصان کا سلسلہ ختم کر دیتے ہیں۔ ہر جدائی خسارہ نہیں ہوتی؛ کچھ جدائیاں روح کی نجات ہوتی ہیں۔
آخرکار انسان کے پاس نہ دولت رہتی ہے، نہ شہرت، نہ ہجوم۔ اگر کچھ باقی رہتا ہے تو ایک مطمئن ضمیر، ایک پُرسکون دل اور چند ایسے لوگ جو آپ کی موجودگی کو نعمت سمجھتے ہوں، عادت نہیں۔ اس لیے اپنی محبت کو سستا نہ ہونے دیں، اپنے لفظ ہر کان کے لیے وقف نہ کریں، اپنی خاموشی ہر دروازے پر لے کر نہ جائیں۔
اپنی روح کے دروازے پر ایک نگہبان ضرور بٹھائیے۔ جو لوگ احترام، اخلاص اور وفاداری کے ساتھ آئیں، ان کے لیے دروازہ کھول دیجیے؛ اور جو آپ کی روشنی چرا کر آپ کو اندھیروں کے حوالے کرنا چاہیں، انہیں دعا دے کر رخصت کر دیجیے۔ کیونکہ بعض اوقات انسان دوسروں کو معاف کر کے نہیں، بلکہ خود کو ان سے آزاد کر کے مکمل ہوتا ہے۔
