(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی پوری زندگی دراصل دو نگاہوں کے درمیان سفر ہے؛ ایک وہ نگاہ جو صرف ظاہر کو دیکھتی ہے، اور دوسری وہ جو ظاہر کے پردے میں چھپے ہوئے باطن کو پہچان لیتی ہے۔ پہلی نگاہ دنیا کو دیکھتی ہے، دوسری حقیقت کو۔ پہلی آنکھ چیزوں کا مشاہدہ کرتی ہے، دوسری دل کو بیدار کرتی ہے۔ یہی دوسری نگاہ عینِ شعور ہے۔
شعور صرف جان لینے کا نام نہیں، بلکہ پہچان لینے کا نام ہے۔ بہت سے لوگ زندگی بھر معلومات جمع کرتے رہتے ہیں، مگر زندگی کا راز ان پر نہیں کھلتا۔ بہت سے لوگ لفظوں کے خزانے رکھتے ہیں، مگر معنی کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔ کیونکہ علم جب تک ذہن کی الماریوں میں بند رہے، وہ صرف بوجھ ہے؛ لیکن جب وہ دل کی زمین میں اتر جائے تو وہ روشنی بن جاتا ہے۔
شور ہمیشہ باہر کی طرف سفر کرتا ہے، شعور ہمیشہ اندر کی طرف۔ شور چاہتا ہے کہ دنیا اسے سنے، شعور چاہتا ہے کہ انسان خود کو سن لے۔ شور اپنی موجودگی ثابت کرنے میں مصروف رہتا ہے، شعور اپنی حقیقت دریافت کرنے میں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان دوسروں کی آنکھوں میں اپنا عکس تلاش کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اپنے اندر چھپے ہوئے آئینے کو صاف کرنے لگتا ہے۔
بے شعوری کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان ہر چیز کا محاسبہ کرتا ہے، مگر کبھی اپنا محاسبہ نہیں کرتا۔ وہ دوسروں کے الفاظ تولتا ہے، مگر اپنے لہجے کا وزن نہیں دیکھتا۔ وہ دوسروں کے رویوں پر فیصلے صادر کرتا ہے، مگر اپنے ارادوں کے موسم سے بے خبر رہتا ہے۔ شعور کا پہلا چراغ یہی ہے کہ انسان اپنی ذات کے دروازے پر دستک دینا سیکھ لے۔
جب شعور بیدار ہوتا ہے تو انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بدلنے سے پہلے اپنی نظر بدلنی ہوتی ہے۔ باہر کے مناظر اکثر اندر کے آئینے کا عکس ہوتے ہیں۔ جس دل میں کدورت ہو، اسے ہر طرف شکایتیں دکھائی دیتی ہیں؛ جس دل میں صفائی ہو، اسے آزمائشوں میں بھی حکمت کے دروازے نظر آنے لگتے ہیں۔
عینِ شعور انسان کو خاموش نہیں کرتی، بلکہ اسے غیر ضروری آوازوں سے آزاد کرتی ہے۔ پھر وہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ بعض سوال جواب نہیں، صرف نظر انداز کیے جانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ وہ ہر جنگ میں اترنے کو بہادری نہیں سمجھتا، کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ کچھ میدان جیتنے کے لیے نہیں، چھوڑ دینے کے لیے ہوتے ہیں۔
شعور انسان کے اندر ایک عجیب توازن پیدا کرتا ہے۔ وہ عاجز بھی ہوتا ہے اور مضبوط بھی؛ نرم بھی ہوتا ہے اور باوقار بھی۔ وہ جھکنا جانتا ہے مگر ٹوٹنا نہیں، معاف کرنا جانتا ہے مگر اپنی قدر کھونا نہیں۔ کیونکہ اسے معلوم ہو چکا ہوتا ہے کہ اصل بلندی دوسروں سے اونچا کھڑا ہونے میں نہیں، بلکہ اپنے نفس سے بلند ہونے میں ہے۔
جس دل میں شعور اترتا ہے، وہاں شکایتیں کم اور شکر زیادہ ہو جاتا ہے۔ وہاں محرومیاں بھی پیغام بن جاتی ہیں اور مشکلات بھی تربیت کا ذریعہ۔ ایسا شخص حالات کا غلام نہیں رہتا، وہ حالات کو سمجھنے والا بن جاتا ہے۔ وہ طوفانوں سے صرف بچنے کی دعا نہیں کرتا، بلکہ ان کے اندر چھپی ہوئی حکمت کو تلاش کرنے لگتا ہے۔
عینِ شعور کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی کمزوریوں سے دشمنی نہیں سکھاتی، بلکہ انہیں پہچان کر سنوارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جو شخص اپنے اندھیروں سے واقف ہو جائے، وہ دوسروں پر پتھر پھینکنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر ایک خاموش جنگ لڑ رہا ہے۔
پھر آہستہ آہستہ انسان کے اندر ایک نئی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ دکھاوے سے دور ہونے لگتا ہے، تعریف کا محتاج نہیں رہتا، اور اپنی قدر دوسروں کی زبان سے نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا سے ناپنے لگتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ پھول اپنی خوشبو کا اعلان نہیں کرتے، چراغ اپنی روشنی کا شور نہیں مچاتے، اور سورج کو اپنے طلوع ہونے کا ثبوت نہیں دینا پڑتا۔
یہی شعور کی علامت ہے کہ انسان اپنی ذات کے گرد بنائی ہوئی دیواروں سے باہر نکل آتا ہے۔ وہ صرف “میں” کے دائرے میں قید نہیں رہتا بلکہ “ہم” کی وسعت کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے لیے انسان محض ایک چہرہ نہیں رہتا، بلکہ ایک پوری کہانی بن جاتا ہے؛ ایک ایسا سفر جس میں ہر شخص کسی نہ کسی آزمائش، کسی نہ کسی تلاش اور کسی نہ کسی امید سے گزر رہا ہے۔
آخرکار عینِ شعور انسان کو یہ راز سمجھا دیتی ہے کہ اصل سفر باہر کی دنیا فتح کرنے کا نہیں، اپنے اندر کے ہجوم کو ترتیب دینے کا ہے۔ سب سے بڑی فتح یہ نہیں کہ انسان دوسروں کو قائل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو حقیقت کے سامنے جھکا دے۔
پھر اس کی زندگی میں ایک ایسی بصیرت پیدا ہوتی ہے جس میں خاموشی بھی پیغام بن جاتی ہے، تنہائی بھی رفاقت بن جاتی ہے، اور معمولی لمحے بھی معنی سے بھر جاتے ہیں۔
تب انسان صرف زندگی نہیں گزارتا، زندگی کو سمجھنے لگتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہے جب آنکھ صرف دیکھنے کا ذریعہ نہیں رہتی، عینِ شعور بن جاتی ہے۔
