جب سوال مر جاتے ہیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی زندگی میں دو لمحے بہت اہم ہوتے ہیں؛ ایک وہ جب وہ آنکھیں کھولتا ہے، اور دوسرا وہ جب سوال کرنا شروع کرتا ہے۔
پہلا لمحہ اسے زندہ کرتا ہے، دوسرا اسے انسان بناتا ہے۔
جو ذہن سوال نہیں کرتا، وہ آہستہ آہستہ دوسروں کے جوابات کا گودام بن جاتا ہے۔ وہ معلومات تو جمع کر لیتا ہے، مگر حکمت سے محروم رہتا ہے۔ کیونکہ علم وہاں ختم ہوتا ہے جہاں جواب مل جاتا ہے، مگر شعور وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں ایک نیا سوال جنم لیتا ہے۔
ہر عظیم دریافت سے پہلے ایک بے چین سوال تھا۔
ہر انقلاب سے پہلے کسی نے رائج سچائی پر انگلی اٹھائی تھی۔
ہر نئی راہ اس وقت بنی جب کسی نے پرانی راہ سے یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ “کیا یہی آخری راستہ ہے؟”
سوال دراصل انکار نہیں، امکانات کا دروازہ ہے۔
وہ دیواریں نہیں گراتا، بلکہ دیوار کے دوسری طرف جھانکنے کی ہمت دیتا ہے۔
جو شخص سوال کرتا ہے، وہ صرف جواب نہیں مانگ رہا ہوتا؛ وہ اپنے شعور کی حدود کو وسیع کر رہا ہوتا ہے۔
یاد رکھئے، جوابات ذہن کو مطمئن کرتے ہیں، مگر سوال روح کو بیدار کرتے ہیں۔
خطرناک وہ انسان نہیں جو سوال کرتا ہے؛ خطرناک وہ ذہن ہے جو سوال سے ڈرنے لگتا ہے۔
جس معاشرے میں خاموشی کو ادب، تقلید کو وفاداری اور سوال کو گستاخی سمجھ لیا جائے، وہاں کتابیں تو رہ جاتی ہیں مگر فکر مر جاتی ہے، مدرسے رہ جاتے ہیں مگر حکمت رخصت ہو جاتی ہے، اور لوگ بولتے تو بہت ہیں مگر سوچتے کم ہیں۔
تعلیم کا مقصد حافظہ بھرنا نہیں، نگاہ کھولنا ہے۔
اگر ایک ذہن ہزار جواب یاد کر لے مگر ایک سچا سوال پیدا نہ کر سکے، تو وہ معلومات کا خزانہ تو بن سکتا ہے، مگر دانائی کا سرچشمہ نہیں۔
سوال صرف زبان سے نہیں اٹھتے، بعض سوال آنکھوں میں جنم لیتے ہیں، بعض ضمیر میں، بعض خاموش راتوں میں، اور بعض ایک ناکامی، ایک جدائی یا ایک زخم کے بعد دل کے اندر بیدار ہوتے ہیں۔
اکثر انسان کی سب سے بڑی ترقی کسی جواب سے نہیں، ایک ایسے سوال سے شروع ہوتی ہے جس نے اس کا سکون چھین لیا ہو۔
اس لیے اپنی زندگی میں ایسے سوال پیدا کرو جو تمہیں بدل دیں۔
یہ مت پوچھو کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں؛ یہ پوچھو کہ میں اپنے بارے میں کیا جانتا ہوں؟
یہ مت پوچھو کہ دنیا نے مجھے کیا دیا؛ یہ پوچھو کہ میں نے دنیا کو کیا دیا؟
یہ مت پوچھو کہ راستہ کتنا مشکل ہے؛ یہ پوچھو کہ میں کتنا بڑا ہو گیا ہوں کہ یہ راستہ اب مجھے مشکل لگتا ہے یا آسان؟
سب سے خطرناک جواب وہ ہوتا ہے جو سوال پیدا ہونے سے پہلے قبول کر لیا جائے۔
اور سب سے خوبصورت سوال وہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے ملا دے۔
یاد رکھئے، سوال کا مقصد ہر چیز پر شک کرنا نہیں، بلکہ ہر حقیقت تک شعور کے ساتھ پہنچنا ہے۔
جو سوال تمہیں عاجز بنا دے، وہ تمہیں علم دے گا۔
جو سوال تمہارا غرور توڑ دے، وہ تمہیں حکمت دے گا۔
اور جو سوال تمہیں اپنے باطن کے سامنے کھڑا کر دے، وہ تمہیں تمہاری اصل پہچان دے گا۔
زندہ انسان وہ نہیں جو صرف سانس لیتا ہے۔
زندہ انسان وہ ہے جس کے اندر حیرت ابھی باقی ہے، جس کی آنکھوں میں تجسس ابھی زندہ ہے، اور جس کا شعور ابھی تک یہ کہنے کی جرأت رکھتا ہے:
“شاید حقیقت اس سے بھی بڑی ہو، جتنی میں آج دیکھ رہا ہوں۔”
کیونکہ…
جو قومیں سوال کھو دیتی ہیں، وہ مستقبل بھی کھو دیتی ہیں۔
اور…
جو انسان سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے، وہ سیکھنا نہیں چھوڑتا… وہ جینا چھوڑ دیتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top