ذہن کی نادیدہ جیل

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کو ہمیشہ لوہے کی سلاخیں قید نہیں کرتیں، بعض اوقات وہ اپنے ہی ذہن کے بنائے ہوئے فیصلوں میں عمر بھر مقید رہتا ہے۔ دنیا کی سب سے خطرناک جیل وہ نہیں جس کی دیواریں پتھر کی ہوں، بلکہ وہ ہے جس کی دیواریں دکھائی نہ دیں، جس کے دروازے کھلے ہوں، مگر قیدی کو اپنی قید کا احساس ہی نہ ہو۔
ہم میں سے اکثر لوگ اسی نادیدہ جیل کے مکین ہیں۔
اس جیل کی صرف دو دیواریں ہیں: “مجھے پسند ہے” اور “مجھے ناپسند ہے۔”
ہم ہر انسان، ہر واقعے، ہر خبر، ہر خیال، ہر تعلق، حتیٰ کہ اپنی ذات تک کو انہی دو خانوں میں رکھ کر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ جو ہماری خواہش کے مطابق ہو، وہ اچھا؛ جو ہماری توقع سے مختلف ہو، وہ برا۔ پھر ہمیں لگتا ہے کہ دنیا دو حصوں میں بٹ گئی ہے؛ کچھ لوگ ہمارے، کچھ ہمارے خلاف؛ کچھ دن مبارک، کچھ منحوس؛ کچھ تجربے نعمت، کچھ زحمت۔
حالانکہ دنیا نے کبھی خود کو اس طرح تقسیم نہیں کیا، یہ تقسیم ہمارے ذہن نے کی ہے۔
ہم دنیا کو ویسا نہیں دیکھتے جیسی وہ ہے، بلکہ ویسا دیکھتے ہیں جیسے ہم اندر سے ہوتے ہیں۔
بچے کا شعور صرف دو رنگ پہچانتا ہے، مگر بالغ شعور جانتا ہے کہ سفید اور سیاہ کے درمیان ہزاروں رنگ بستے ہیں۔ اسی لیے ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، ہر خاموشی نفرت نہیں ہوتی، ہر انکار توہین نہیں ہوتا، اور ہر تکلیف سزا نہیں ہوتی۔
درخت کبھی یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ اس کے سائے میں بیٹھنے والا کون ہے۔ دریا یہ شرط نہیں رکھتا کہ صرف پسندیدہ لوگ ہی اس کا پانی پئیں۔ سورج یہ نہیں پوچھتا کہ روشنی کس کے حصے میں آنی چاہیے۔ صرف انسان ہے جس نے اپنی خواہش کو انصاف کا معیار بنا لیا ہے۔
اسی لیے ایک ہی بارش کسی کے لیے رحمت بنتی ہے، کسی کے لیے زحمت، اور کسی کے لیے محض موسم۔
واقعہ ایک ہوتا ہے، مگر شعور اس کی کئی تفسیریں لکھتا ہے۔
مصیبت یہ نہیں کہ زندگی مشکل ہے؛ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ذہن میں ہر مشکل کا صرف ایک ہی نام ہے: “برا”۔
حالانکہ بعض راستے اس لیے دشوار ہوتے ہیں کہ وہ منزلوں تک پہنچاتے ہیں۔ بعض لوگ اس لیے چھوڑ جاتے ہیں کہ انسان خود کو پا لے۔ بعض ناکامیاں اس لیے آتی ہیں کہ کامیابی سے پہلے غرور مر جائے۔ اور بعض زخم اس لیے لگتے ہیں کہ بصیرت کی ایک نئی آنکھ کھل جائے۔
ہر کانٹا دشمن نہیں ہوتا، بعض کانٹے راستہ بدلنے آتے ہیں۔
ہر زخم نقصان نہیں ہوتا، کچھ زخم انسان کے اندر ایک نیا انسان پیدا کرتے ہیں۔
شعور کی پہلی علامت یہ نہیں کہ تم ہر بات کا جواب جانتے ہو؛ شعور کی پہلی علامت یہ ہے کہ تم ہر چیز پر فوراً فیصلہ دینا چھوڑ دیتے ہو۔
تنگ شعور ردِعمل دیتا ہے، وسیع شعور معنی تلاش کرتا ہے۔
جس دن تم نے ہر اختلاف کو سیکھنے کا موقع سمجھ لیا، حکمت نے تمہارے دروازے پر دستک دے دی۔ جس دن تم نے ہر تنقید کو آئینہ مان لیا، تمہاری اصلاح شروع ہو گئی۔ جس دن تم نے ہر انتظار کو صبر کی مشق سمجھ لیا، وقت تمہارا استاد بن گیا۔
تب تم ردِعمل کے غلام نہیں رہو گے، بلکہ شعوری جواب دینے والے انسان بن جاؤ گے۔
اپنے ذہن میں نئے خانے بناؤ۔
ایک خانہ فہم کا، جہاں تم فیصلہ کرنے سے پہلے سنو۔
ایک خانہ برداشت کا، جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے۔
ایک خانہ تجسس کا، جہاں ہر نیا خیال خطرہ نہیں بلکہ ایک نیا امکان ہو۔
ایک خانہ بصیرت کا، جہاں تم لفظوں سے پہلے دلوں کے زخم پڑھ سکو۔
ایک خانہ رحمت کا، جہاں تم دوسروں کو وہ معافی دے سکو جس کی کبھی خود تمہیں ضرورت پڑی تھی۔
یاد رکھو، جس دل میں خانے بڑھ جاتے ہیں، اس دل میں نفرت کی جگہ کم پڑ جاتی ہے۔
روحانی بلوغت کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں آزمائشیں ختم ہو جائیں؛ روحانی بلوغت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا ظرف آزمائشوں سے بڑا ہو جائے۔
اصل آزادی اس دن نہیں ملتی جب حالات تمہاری مرضی کے مطابق ہو جائیں؛ اصل آزادی اس دن ملتی ہے جب تمہارا شعور حالات کا غلام رہنا چھوڑ دے۔
خواہش اگر بادشاہ بن جائے تو انسان عمر بھر بھکاری رہتا ہے، لیکن جب شعور بادشاہ بن جائے تو محرومی بھی اس کی عزت نہیں چھین سکتی۔
یاد رکھو، حقیقت خواہش کے دروازے سے نہیں، شعور کی کھڑکی سے داخل ہوتی ہے۔
اور شعور کی کھڑکیاں صرف علم سے نہیں کھلتیں؛ وہ عاجزی، برداشت، خاموشی، مشاہدے اور محبت سے کھلتی ہیں۔
جس دن تم نے دنیا کو اپنی پسند کی عینک سے دیکھنا چھوڑ دیا، اسی دن پہلی بار تم نے حقیقت کو دیکھا۔
اور جس دن تم نے لوگوں کو ان کے ایک رویّے سے نہیں بلکہ ان کی پوری کہانی سے سمجھنا شروع کر دیا، اسی دن تم خود بھی ایک نئے انسان میں ڈھلنے لگے۔
انسان کی اصل عظمت اپنی ہر خواہش پوری کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی ہر خواہش کا غلام نہ بننے میں ہے۔
آخر میں صرف ایک بات یاد رکھو…
دنیا کی سب سے مضبوط زنجیریں لوہے کی نہیں ہوتیں؛ وہ “پسند” اور “ناپسند” سے بنی ہوتی ہیں۔
اور دنیا کی سب سے بڑی آزادی یہ نہیں کہ تم دنیا کو بدل دو؛ بلکہ یہ ہے کہ تم اپنے شعور کو اتنا وسیع کر لو کہ دنیا وہی رہے، مگر تم بدل جاؤ۔
کیونکہ جب شعور بدل جاتا ہے تو منظر نہیں بدلتے، مگر ہر منظر کا مطلب بدل جاتا ہے؛ اور جب معنی بدل جائیں تو انسان کی پوری کائنات بدل جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top