جب دل تخت پر بیٹھ جائے اور عقل دروازے پر کھڑی رہ جائے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کے اندر دو جہان آباد ہیں؛ ایک وہ جہاں احساسات کے چراغ جلتے ہیں، دوسرا وہ جہاں سوچ کے آئینے رکھے ہیں۔ ایک کو ہم دل کہتے ہیں، دوسرے کو عقل۔ دونوں اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر زندگی کا حسن اسی وقت قائم رہتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلیں۔
دل ایک معصوم بچے کی طرح ہے۔ اسے موسموں کی خبر نہیں ہوتی، راستوں کی دشواری کا اندازہ نہیں ہوتا، وہ بس جس طرف محبت کی خوشبو آئے، اسی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ کسی کے ایک آنسو پر اپنی خوشیاں قربان کر دیتا ہے، کسی کی ایک مسکراہٹ کو اپنی دنیا بنا لیتا ہے۔ دل حساب نہیں رکھتا کہ میں نے کتنا دیا اور مجھے کتنا ملا۔ وہ بس دینے کا ہنر جانتا ہے۔
مگر یہی معصومیت کبھی کبھی اسے ایسے دروازوں تک لے جاتی ہے جہاں اندر چراغ نہیں، آگ ہوتی ہے۔ وہ کانٹوں کو پھول سمجھ کر سینے سے لگا لیتا ہے اور پھر زخمی ہو کر بھی اسی راستے کو یاد کرتا رہتا ہے جہاں اسے درد ملا تھا۔
دوسری طرف عقل ہے، جو زندگی کی شاہراہ پر ایک محتاط مسافر کی طرح چلتی ہے۔ وہ ہر قدم سے پہلے زمین کو پرکھتی ہے، ہر چہرے کے پیچھے چھپی حقیقت تلاش کرتی ہے، ہر فیصلے کے انجام کا اندازہ لگاتی ہے۔ وہ انسان کو گرنے سے بچاتی ہے، مگر کبھی کبھی اسے اڑنے سے بھی روک دیتی ہے۔
عقل کہتی ہے: “یہ راستہ خطرناک ہے۔”
دل کہتا ہے: “مگر شاید اسی راستے کے آخر میں میری منزل ہو۔”
عقل کہتی ہے: “پرانے زخم یاد رکھو۔”
دل کہتا ہے: “مگر ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔”
حقیقت یہ ہے کہ صرف دل کے سہارے چلنے والا انسان محبت تو بہت کرتا ہے، مگر اکثر اپنی حفاظت بھول جاتا ہے۔ اور صرف عقل کے سہارے جینے والا انسان کامیابی تو حاصل کر لیتا ہے، مگر کبھی کبھی زندگی کے سب سے خوبصورت احساسات سے محروم رہ جاتا ہے۔
ایک ایسا شخص جو ہر رشتے کو فائدے اور نقصان کی ترازو میں تولتا رہے، شاید دنیا کے حساب سے کامیاب ہو جائے، مگر دل کی دنیا میں مفلس رہ جاتا ہے۔ کیونکہ کچھ رشتے منافع نہیں ہوتے، کچھ دعائیں بدلے کی محتاج نہیں ہوتیں، اور کچھ محبتیں صرف اس لیے قیمتی ہوتی ہیں کہ وہ بےغرض ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف سوچنے والا ذہن دیا بلکہ محسوس کرنے والا دل بھی دیا۔ قرآن بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ عقل راستہ دکھاتی ہے، مگر دل اس راستے پر چلنے کی توانائی دیتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی زندگی اس توازن کی سب سے خوبصورت مثال ہے۔ آپ ﷺ کا دل رحمت سے بھرا ہوا تھا؛ بچوں کے لیے شفقت، امت کے لیے درد، دشمنوں کے لیے بھی رحم۔ لیکن اسی کے ساتھ آپ ﷺ کی حکمت، تدبر اور فیصلوں میں بےمثال بصیرت بھی تھی۔ دل محبت کا چراغ تھا اور عقل اس چراغ کی روشنی میں راستہ دکھانے والی آنکھ۔
زندگی کا سب سے بڑا فن یہ نہیں کہ ہم دل کو خاموش کر دیں یا عقل کو حاکم بنا دیں، بلکہ یہ ہے کہ دونوں کو ان کا مقام دیں۔
محبت کریں، مگر شعور کے ساتھ۔
معاف کریں، مگر اپنی عزت کے ساتھ۔
اعتماد کریں، مگر حقیقت کو نظر انداز کیے بغیر۔
خواب دیکھیں، مگر آنکھیں بند کر کے نہیں۔
کیونکہ صرف دل انسان کو ٹوٹنے کا ہنر سکھاتا ہے، اور صرف عقل اسے پتھر بننے کا خطرہ دیتی ہے۔
اصل انسان وہ ہے جس کا دل زندہ ہو اور عقل بیدار۔
جس کے فیصلوں میں محبت کی حرارت بھی ہو اور حکمت کی روشنی بھی۔
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب دل بغیر عقل کے سفر کرے، یا عقل بغیر دل کے حکومت کرنے لگے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top