خیالوں کی دنیا میں انسان کا اصل قد

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی اصل پہچان اس کے پاس موجود طاقت، دولت، منصب یا شہرت سے نہیں ہوتی، بلکہ اس خیال سے ہوتی ہے جو اس کے اندر خاموشی سے پروان چڑھ رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر عمل پہلے ایک خیال کے رحم میں جنم لیتا ہے، پھر وہی خیال کردار بنتا ہے، اور کردار ہی انسان کی تقدیر کا رخ متعین کرتا ہے۔
دنیا میں دو طرح کے خیالات ہمیشہ سے مقابل رہے ہیں۔ ایک وہ جو انسان کو صرف اپنی ذات کا قیدی بنا دیتے ہیں؛ جہاں کامیابی کا مطلب دوسروں کو پیچھے چھوڑ دینا، طاقت کا مطلب کمزور کو دبانا، اور ذہانت کا مطلب کسی سادہ دل انسان کو مات دینا سمجھا جاتا ہے۔
ایسے خیال انسان کو بظاہر بلند کر دیتے ہیں، مگر اندر سے چھوٹا بنا دیتے ہیں۔ وہ محل تو تعمیر کر لیتے ہیں مگر دل میں ویرانے چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ لوگوں کے درمیان مقام تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں بنا پاتے۔
دوسری طرف کچھ خیالات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اپنے وجود سے آگے دیکھنا سکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عظمت دوسروں کو زیر کرنے میں نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے میں ہے۔ اصل بلندی یہ نہیں کہ کتنے لوگ تمہارے سامنے جھکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنے دل تمہاری وجہ سے مسکراتے ہیں۔
ایک خیال کہتا ہے: “اپنے لیے جمع کرو، کیونکہ دنیا مقابلے کا میدان ہے۔”
دوسرا خیال کہتا ہے: “اپنے آپ کو بانٹو، کیونکہ انسان کی اصل قیمت اس فائدے میں ہے جو وہ دوسروں تک پہنچاتا ہے۔”
ایک ذہن شہرت کے مینار تعمیر کرتا ہے، دوسرا کردار کی بنیادیں مضبوط کرتا ہے۔ ایک نام کے پیچھے بھاگتا ہے، دوسرا کام کے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وقت تاج رکھنے والوں کو بھول جاتا ہے، مگر خدمت کرنے والوں کو دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔ تخت مٹ جاتے ہیں، محلات کھنڈر بن جاتے ہیں، مگر ایک اچھا خیال، ایک نیک عمل اور ایک بےلوث خدمت صدیوں تک انسانیت کو روشنی دیتی رہتی ہے۔
اصل آزادی یہ نہیں کہ انسان ہر خواہش پوری کر لے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام نہ رہے۔ جو شخص دولت، تعریف اور طاقت کے پیچھے اپنی روح گنوا دے، وہ سب کچھ پا کر بھی خالی ہاتھ رہتا ہے۔ اور جو شخص قناعت، خدمت اور خیر خواہی کو اپنا راستہ بنا لے، وہ کم رکھتے ہوئے بھی امیر ہوتا ہے۔
انسان کا قد اس کے عہدے سے نہیں، اس کے ظرف سے ناپا جاتا ہے۔ اس کی عظمت اس بات سے نہیں کہ کتنے لوگ اسے جانتے ہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ کتنے لوگ اس کی وجہ سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔
آخرکار ہر انسان اپنے خیالوں کی دنیا کا معمار ہے۔ کوئی اپنی انا کے محل بناتا ہے، کوئی اپنی محبت کے باغ اگاتا ہے۔ کوئی زندگی بھر خود کو ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے، اور کوئی خاموشی سے خود کو انسان ثابت کر دیتا ہے۔
کیونکہ دنیا میں سب سے بلند وہ شخص نہیں جو سب سے اوپر کھڑا ہو، بلکہ وہ ہے جو بلندی پر پہنچ کر بھی جھکنا جانتا ہو۔
خیال اگر صرف “میں” تک محدود ہو جائے تو انسان طاقتور تو بن سکتا ہے، مگر عظیم نہیں۔
اور جب خیال “ہم” تک پہنچ جائے تو ایک انسان بھی پوری انسانیت کے لیے روشنی بن سکتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top