صوفی کرامت نہیں، حقیقت ہوتا ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

صوفی تماشا نہیں، تماشا ختم کرنے والا انسان ہوتا ہے۔
وہ نہ لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے، نہ اپنی ذات کے گرد حیرت کا حصار کھڑا کرتا ہے۔ اس کی تمام جدوجہد اس بات پر ہوتی ہے کہ نگاہیں مخلوق سے ہٹ کر خالق کی طرف اٹھ جائیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس دل کو اللہ مل جائے، اسے دنیا کی داد اور لوگوں کی واہ واہ کی حاجت نہیں رہتی۔
اگر ہوا میں اڑنا ہی ولایت کی دلیل ہوتا تو پرندے سب سے بڑے اولیاء ہوتے، اور اگر پانی پر چلنا قربِ الٰہی کی علامت ہوتا تو ہر کشتی ران عارف کہلاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ فاصلے زمین سے اٹھنے میں نہیں، نفس سے اترنے میں طے ہوتے ہیں۔
صوفی اپنی طاقت کا اعلان نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر قوت کا سرچشمہ “القوی” ہے۔ جو شخص اپنی طاقت دکھانے میں لذت محسوس کرنے لگے، وہ دراصل اپنی کمزوری کا اشتہار دے رہا ہوتا ہے۔ بندہ جب اپنی نسبت کو بڑا کرنے لگے تو رب کی بڑائی نگاہوں سے اوجھل ہونے لگتی ہے، اور یہی روحانی سفر کی سب سے خطرناک لغزش ہے۔
اسی لیے سچا صوفی کرامتوں کی نمائش سے بے نیاز رہتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی کرامت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس کو شکست دے دیتا ہے، غصے کو حلم میں، تکبر کو انکسار میں، نفرت کو رحمت میں اور خواہش کو رضا میں بدل دیتا ہے۔ یہی وہ انقلاب ہے جو آسمان پر نہیں، انسان کے باطن میں برپا ہوتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ لوگ آج بھی حقیقت سے زیادہ حیرت کے خریدار ہیں۔ وہ ایسے چہروں کی تلاش میں رہتے ہیں جن کے گرد پراسرار قصے گردش کرتے ہوں، جہاں عقیدت کو عقل سے اور تماشے کو تزکیۂ نفس سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہو۔ اسی کمزوری نے کرامتوں کی ایک ایسی منڈی آباد کر دی ہے جہاں روح نہیں، حیرت فروخت ہوتی ہے۔
صوفی کو ڈھونڈنا ہو تو ہجوم میں نہیں، خاموشی میں تلاش کیجیے۔ وہ اپنی ذات کا چرچا نہیں کرتا بلکہ اپنے رب کا ذکر کرتا ہے۔ اس کی موجودگی انسان کو کسی شخصیت کا اسیر نہیں بناتی بلکہ اللہ کی طرف آزاد کر دیتی ہے۔
یاد رکھیے، روحانیت کی بلندیاں زمین چھوڑنے سے نہیں ملتیں، اپنی انا چھوڑنے سے ملتی ہیں۔ اور یہی وہ کرامت ہے جسے نہ بازار بیچ سکتا ہے، نہ دنیا دکھا سکتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top