دُکھ کا کوئی مترجم نہیں ہوتا

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ کا لباس پہنایا ہی نہیں جا سکتا۔ انہیں بیان کرنے کی کوشش اکثر ان کی توہین بن جاتی ہے، کیونکہ کچھ کیفیتیں زبان کی حدود سے باہر پیدا ہوتی ہیں۔ دُکھ کوئی جملہ نہیں، ایک سفر ہے؛ کوئی قصہ نہیں، ایک ایسی رات ہے جس سے گزرنے والا ہی اس کی تاریکی کی گہرائی جانتا ہے؛ کوئی لفظ نہیں، روح پر پڑنے والا وہ سایہ ہے جسے صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اسے اپنے اندر اترتے دیکھا ہو۔
تم دُکھ کا ترجمہ نہ کرو، اسے محسوس کرو۔ کیونکہ زبانیں صرف آوازیں منتقل کرتی ہیں، درد نہیں۔ دنیا کی ہر لغت میں “غم” کا ایک لفظ موجود ہے، مگر ہر سینے میں چھپا ہوا غم اپنی الگ کائنات رکھتا ہے۔ ایک ماں کی خاموش آنکھ، ایک باپ کی چھپی ہوئی فکر، ایک شکستہ خواب کی راکھ، اور ایک تنہا دل کی رات — ان سب کے لیے الفاظ ہمیشہ کم پڑ جاتے ہیں۔
دُکھ کو بیان نہیں کیا جاتا، دُکھ سے گزرا جاتا ہے۔
جس دل پر درد نہیں اترا، وہ درد کی تعریف تو کر سکتا ہے، مگر اس کی گہرائی نہیں ناپ سکتا۔ جیسے ساحل پر کھڑا شخص سمندر کی لہروں کا شور سن سکتا ہے، مگر طوفان کے بیچ ڈوبتی ہوئی کشتی میں بیٹھا مسافر ہی جانتا ہے کہ پانی کا خوف کیا ہوتا ہے۔
کچھ لوگ رات کے اندھیروں میں خواب لکھتے ہیں۔ امید کے کاغذ پر مستقبل کے نقش بناتے ہیں، اپنی خواہشوں کے چراغ جلاتے ہیں، مگر کبھی کبھی صبح کی بے رحم روشنی ان خوابوں کو اٹھا کر حقیقت کے کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔ وہاں صرف نامکمل خواب نہیں ہوتے، وہاں انسان کے وہ حصے بھی دفن ہوتے ہیں جو کبھی یقین کیا کرتے تھے، جو کبھی مسکرانے کی وجہ تلاش کرتے تھے، جو کبھی آنے والے کل پر بھروسا رکھتے تھے۔
مگر دُکھ کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہ صرف توڑنے نہیں آتا، وہ تراشنے بھی آتا ہے۔ جیسے پتھر پر پڑنے والی ضرب اسے بے جان چٹان سے ایک شاہکار بنا دیتی ہے، ویسے ہی کچھ درد انسان کے اندر وہ گہرائی پیدا کر دیتے ہیں جو آسان زندگی کبھی عطا نہیں کر سکتی۔
دُکھ انسان سے بہت کچھ چھین لیتا ہے، مگر بدلے میں اسے ایک ایسی نظر دے دیتا ہے جو دوسروں کے خاموش زخم پڑھنا سکھا دیتی ہے۔ وہ دل جو خود درد کے راستوں سے گزرا ہو، دوسروں کی خاموشیوں کا مطلب سمجھنے لگتا ہے۔
بعض لوگ خوشیوں کے محلوں میں رہ کر بھی اندر سے خالی رہتے ہیں، اور بعض لوگ دُکھ کے صحرا میں چلتے چلتے انسانیت کے چشمے دریافت کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ہر آنسو شکست کی علامت نہیں ہوتا؛ کچھ آنسو روح کی وہ تحریریں ہوتے ہیں جنہیں زبان لکھنے سے عاجز ہوتی ہے۔
جو شخص اپنے دُکھ کو صرف بوجھ سمجھتا ہے، وہ اس کے نیچے دب جاتا ہے؛ لیکن جو اسے شعور میں ڈھال لیتا ہے، وہ اپنی شکست کی راکھ سے معنی کے چراغ روشن کر لیتا ہے۔
یاد رکھیے، دُکھ کا کوئی مترجم نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی ایک خاموش زبان ہوتی ہے؛ ایک ایسی زبان جو آنکھوں سے لکھی جاتی ہے، خاموشیوں میں پڑھی جاتی ہے، اور صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل نے کبھی تنہائی کے اندھیرے میں خود کو پکارا ہو۔
کیونکہ دُکھ کا ترجمہ ممکن نہیں؛ دُکھ صرف جھیلا جاتا ہے۔ اور جو شخص دُکھ کی آگ سے گزر کر بھی اپنے اندر انسانیت کا چراغ روشن رکھے، وہ زندگی کی سب سے گہری کتاب پڑھ چکا ہوتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top