Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
آتا ہے زلزلہ عرشِ بریں پر
گرتا ہے جب آنسو زمیں پر
بے بسی ہی انسان کا حاصل تو ہے
یہ زندگی ریت کا ساحل تو ہے
تمام عمر یونہی خود کو دربدر کرتا رہا
جانے کس کس کے حصے کا سفر کرتا رہا
اور کس کے گھر جا کر ٹہرے گی رات
یہ سعادت مجھے ہی بخشے گی رات
میری ذات گردِ سفر ہو گئی
زندگی جنوں کی نظر ہو گئی
ہر گلی میں بکھرے ہجرتوں کے نشاں ہیں
مرے شہر میں ہر سو خالی مکاں ہیں
تو یہ سمجھتی ہے کہ ہارا گیا
زندگی ترے ہاتھوں مارا گیا
آسماں سے اترتا ہوں دریا فتح کرتا ہی رہوں گا
اونچ نیچ کا نہیں قائل ہموار اپنی سطح کرتا ہی رہوں گا
ایک کی خاطر سب سے کنارہ کرنا
سمجھ گیا ہوں اُس کا اشارہ کرنا
لحاظ اتر گیا دل سے تو ڈر نہ رہا
مکان تھا بس اسی لئے وہ گھر نہ رہا
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
6
7
8
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top