Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
ہم یوِں اونے پونے بک جاتے ہیں
جیسے ٹوٹے کھلونے بک جاتے ہیں
غم کی شدت میں ہنسا کرتے ہیں، بھرتے نہیں آہ
عظمتِ غم تو کسی طور نہیں کرتے تباہ
طلاطموں کے بیچ میں بھنور تو خود سفر میں ہے
کہ منزلوں کے بھید کا سفر ، تو خود سفر میں ہے
یہ رنج کیا ہیں خود پر گزرے تو ہم سمجھے
یہ الم سارے خود جو جھیلے تو ہم سمجھے
کتنا عجب ہے یہ معمہ دیکھنا
صحرا کو آندھی کی تمنا دیکھنا
سوچ لینا وفا سے پہلے
لوٹ آنا بلا سے پہلے
ساری خلق کو دکھائی دوں
خود کو مگر نہ سجھائی دوں
میں نے تو روایت بدل کے رکھ دی
ہر مردہ شریعت بدل کے رکھ دی
تیری یادوں کے آثار ملے
جیسے کہ پرانے یار ملے
تیری خواہش قبول کرتے ہیں
بھولنے کی بھول کرتے ہیں
Posts navigation
1
2
…
22
اگلا صفحہ →
Scroll to Top