تحریرات
آج کا المیہ: قربِ خدا کا خوف
آج کا انسان بے شمار فکری، معاشرتی اور روحانی الجھنوں میں گھرا ہوا ہے، لیکن ان سب میں سب سے نازک اور نادیدہ مسئلہ وہ ہے جسے وہ خود بھی مسئلہ نہیں سمجھتا— قربِ خدا کا خوف۔ یہ ایک ایسا خوف ہے جو نہ دشمن کی طرف سے ہے، نہ...
سجدہ: تعلق یا تجارت؟
سجدہ محض عبادت کا ایک رُکن نہیں، بلکہ یہ عبد اور معبود کے درمیان قائم ہونے والے تعلق کی بلند ترین شکل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنی تمام ظاہری و باطنی حیثیتوں سے خالی ہو کر محض رب کے حضور پیش ہوتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ...
چھالے، راستے اور خود کا سہارا
زندگی ایک سفر ہے — پیچیدہ، غیر ہموار، اور اکثر تنہا۔ اس راہ پر ہم سب چل رہے ہیں، مگر کسی کی رفتار کو دیکھ کر اس کی راحت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ بسا اوقات جو شخص سب سے پُراعتماد دکھتا ہے، وہی اندر سے سب سے زیادہ...
محبت اور خدا
کائنات کی وسعتوں میں بکھرا ہر ذرّہ، ہر صدا، ہر خامشی ایک گہرے راز کی گواہی دیتی ہے—ایک ایسی حقیقت کی جو دیکھنے میں نہیں آتی، مگر محسوس کی جاتی ہے؛ جو زبان سے بیان نہیں ہو سکتی، مگر دل کے اندر جاگ اٹھتی ہے۔ یہی حقیقت محبت ہے۔ محبت،...
بت، خوف اور بھولے ہوئے عہد
انسان کی تخلیق ایک بلند اور پاکیزہ نعرے کے ساتھ ہوئی: لَا إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) یہ صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ انسان کی فطرت میں پیوست عہدِ ازل کا اعلان ہے — جیسا کہ قرآن کہتا ہے: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا...
محبت: ایک ازلی توانائی
محبت کوئی شے نہیں جو ہاتھ سے چھوٹ جائے، کوئی مسافر نہیں جو ایک بار آ کر واپس نہ آئے، اور نہ ہی یہ کوئی لمحہ ہے جو وقت کی ریت پر پھسل کر فنا ہو جائے۔ محبت تو ایک توانائی ہے—ازل سے جاری، ابد تک قائم۔ اسے نہ کسی...
عشق — عین، شین ،قاف ، اور قرب کا آفاقی سفر
عشق — صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ وہ عرفانی زلزلہ ہے جو انسان کو اپنے خول سے نکال کر ذاتِ حق کی دہلیز تک لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ کوئی سطحی واردات نہیں، بلکہ ایک باطنی انقلاب ہے — جہاں "ع" سے آغاز ہوتا ہے، "ش" سے پردہ اٹھتا ہے،...
دنیا: ایک دارالامتحان، نہ کہ میزانِ عدل
دنیا کی بنیاد کبھی عدلِ کامل پر نہیں رکھی گئی — اور نہ ہی رکھی جا سکتی تھی۔ کیونکہ اگر کائنات کے پردے پر ازل ہی سے میزانِ عدل پوری قوت سے قائم ہوتی تو آزمائش کا باب سرے سے کھل ہی نہ سکتا۔ پھر فرعون کے تخت پر بیٹھنے...
مسافر، راستہ اور پہچان کا دائرہ
انسان ازل سے محوِ سفر ہے۔ یہ سفر صرف فاصلے طے کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک باطنی جستجو، ایک روحانی بھٹکاؤ، اور ایک نامعلوم مرکز کی طرف مسلسل کھنچاؤ ہے۔ کبھی خوابوں کے جزیروں کی طرف، کبھی سوالوں کے جنگلوں کی طرف، اور کبھی سرابوں کے ریگزاروں میں ایک...
محبت کی عزت، محبوب سے بلند تر ہے
محبت کوئی عرضی نہیں ہوتی، نہ ہی کسی تمنّا کا کمزور سا سایہ—یہ تو ایک درویش صفت بادشاہی ہے، جو خاموشی کے تخت پر بیٹھی، اپنے وقار کے دائرے میں سب کچھ دیکھتی، جانتی اور سہتی ہے۔ اس کی پیدائش نہ چہرے کی کشش سے ہوتی ہے، نہ آواز کے...
