تحریرات

حقیقی مسکان

حیات کی رمز یہی ہے کہ وہ ہر شے کو تضاد کے دائرے میں قید رکھتی ہے۔ دکھ اور سکھ، ضبط اور اختیار، گناہ اور ثواب—یہ سب اپنی انتہاؤں پر جا کر ایک دوسرے میں تحلیل ہونے لگتے ہیں۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں چوٹ مسکان میں ڈھل جاتی...

زندگی ایک گورکھ دھندہ

زندگی ایک گورکھ دھندہ ہے، ایک ایسا پیچیدہ جال جس میں حقیقت اور سراب، خواب اور حقیقت، امید اور مایوسی آپس میں یوں گتھم گتھا ہیں کہ اکثر فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچ چکا ہے، مگر جونہی وہ قریب ہوتا...

الفاظ کا گورکھ دھندہ

الفاظ صرف آوازوں کا مجموعہ نہیں، یہ ایک ایسا پیچیدہ جال ہیں جس میں معانی، جذبات اور تاثرات اس طرح الجھے ہوتے ہیں کہ اکثر سچ اور جھوٹ، حقیقت اور فریب میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جو کہا جاتا ہے، وہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو سنا جاتا...

دریا اور انسان

دریا راستے نہیں ڈھونڈتے، اپنے راستے خود بناتے ہیں۔ چٹانیں راہ روکیں تو شکایت نہیں کرتے، بس خاموشی سے نیا راستہ تراش لیتے ہیں۔ زندگی میں بھی کچھ رکاوٹوں کو توڑنا نہیں، چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے۔ جو ضد اور انا میں الجھتے ہیں، وہ رک جاتے ہیں، مگر جو...

بات خدا تک نہ جائے

رنجشوں کا حق سبھی کو حاصل ہے، تغافل بھی شاید کسی آزمائش کا حصہ ہو، مگر زخم جب حد سے بڑھ جائیں، تو دل کی دہلیز پر ایسی دستک دیتے ہیں جو سیدھا آسمان تک سنائی دیتی ہے۔ انسان ظلم سہہ سکتا ہے، بے رُخی کا عادی ہو سکتا ہے،...

حلقۂ ظلم میں قیدِ انتخاب

یہ دنیا ایک عظیم تماشا ہے، اور اس کے باسی تماشائی بھی ہیں اور کردار بھی۔ کچھ صدیوں سے یہاں ایک رسم چلی آ رہی ہے— مظلوموں کو وقتاً فوقتاً یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظالموں کا انتخاب خود کریں۔ انتخاب کا یہ سراب اس امید پر...

ادب محبت کا مصلحتی نعم البدل

محبت اور ادب میں بظاہر ایک باریک سی لکیر ہے، مگر حقیقت میں یہ دونوں اتنے مختلف ہیں کہ اکثر ایک کی غیر موجودگی دوسرے کی موجودگی کا تقاضا بن جاتی ہے۔ جہاں دلوں میں محبت موجود ہو، وہاں رسمی ادب کی ضرورت نہیں پڑتی، مگر جہاں محبت کا فقدان...

حسد اور عدم تحفظ

انسان ہمیشہ سے اپنی ذات کے حصار میں قید ہے۔ اس کی فطرت میں بقا کی جبلت ہے، مگر اس بقا کے ساتھ ایک ایسا سایہ بھی چلتا ہے جو ہر دم اس کے اندر سرگوشیاں کرتا ہے— یہ سایہ حسد کا ہے، جو عدم تحفظ کے اندھیرے سے جنم...

معصومیت

معصومیت ایک کھلی کتاب کی مانند ہوتی ہے، جس کے ہر صفحے پر سچائی کی روشنائی سے حرف لکھے گئے ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی پیچیدگی نہیں، کوئی پوشیدگی نہیں، کوئی سازش نہیں۔ مگر شاید یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ وہ اپنی شفافیت میں اس قدر غیر...

آسماں سے بات کرنے کے لیے کوئی تو رہنے دو دروازہ کھلا

ہم ہمیشہ آسمان سے بات کرنے کے لیے اوپر دیکھتے ہیں، کسی خارجی دروازے کی تلاش میں رہتے ہیں، کسی ایسی کھڑکی کی امید رکھتے ہیں جو خلا میں کھلتی ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آسمان سے بات کرنے کا دروازہ نہ اوپر ہے، نہ باہر—وہ دروازہ اندر کی...

Scroll to Top