تحریرات
وجود کی جنگ
زندگی ایک ایسا جبر ہے جو ہر لمحہ ہم سے کچھ تقاضا کرتا ہے۔ کبھی یہ خوابوں کو سینچنے کا مطالبہ کرتی ہے، تو کبھی خواہشوں کے چراغ گل کرنے کا۔ کبھی یہ صبر اور قناعت کی چادر میں لپٹنے کا درس دیتی ہے، تو کبھی تھکن سے چور قدموں...
ہم مٹی سے ہیں تو پھول کھلائیں
مٹی کی تقدیر کیا ہے؟ کبھی وہ گلاب کو جنم دیتی ہے، کبھی کانٹوں کو۔ مگر مٹی بےبس ہے، اس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ جو کچھ اس میں بویا جائے، وہی اگاتی ہے۔ لیکن انسان؟ اسے اختیار دیا گیا، شعور بخشا گیا، انتخاب کا حق ملا۔ پھر کیوں وہ...
درِ یقین
یقین وہ در ہے جو نظر نہیں آتا، مگر کھلنے پر ہر راہ روشن کر دیتا ہے۔ یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں دیواریں خود کو راستے میں تحلیل کر لیتے ہیں، اور زمین قدموں تلے خاموشی سے سرک جاتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جہاں ہوائیں سوال بن کر رک...
محبت اور خوف
محبت روشنی ہے، مگر جب خوف اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہ کانپنے لگتی ہے۔ محبت جب تک بے خوف ہے، تب تک حقیقت ہے—مگر جہاں ہراس اس کے گرد دیواریں چننے لگے، وہاں وہ اپنی اصل کھو بیٹھتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ایک انسان...
دنیا: حقیقت یا ایک رومانوی فریب؟
دنیا کو دیکھنے کے دو زاویے ہیں—ایک وہ جو ہمیں نظر آتا ہے، اور ایک وہ جو ہمیں محسوس ہوتا ہے۔ جو نظر آتا ہے، وہ حقیقت ہے؛ جو محسوس ہوتا ہے، وہ رومان ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت اور رومانوی تصور دو الگ دنیائیں ہیں، یا...
کہیں ایسا نہ ہو کہ میں جیے بغیر مر جاؤں
زندگی کا سب سے بڑا خوف موت نہیں، بلکہ وہ زندگی ہے جو بنا کسی شدت، بنا کسی احساس کے گزر جائے۔ وہ زندگی جس میں نہ کوئی لمحہ دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کرے، نہ کوئی خوشی قہقہہ بن کر گونجے، نہ کوئی غم آنکھوں کو نم کرے۔...
زندگی کا سود
زندگی ہمیں کبھی یک مشت نہیں ملتی، یہ قسطوں میں تقسیم ہوتی ہے—ہر لمحہ ایک نئی قیمت کے ساتھ، ہر سانس کسی نہ کسی ادھار کی یاد دلاتی ہوئی۔ ہم سب کسی نہ کسی قرض میں جیتے ہیں، کچھ قرض ہمیں وراثت میں ملتے ہیں، کچھ ہم خود اپنے خوابوں...
پروردگار! آؤ، کلیجے سے لگا لو مجھ کو
کہاں جاؤں، اے ربِ کائنات، کہ اب راستے ختم ہو چکے، قدم تھک چکے، آنکھیں بینائی کھو چکی ہیں؟ میں وہی ہوں جو بھٹک گیا تھا، جو ٹھوکر کھا کر سنبھلنے کے بجائے مزید گر گیا، جو اپنی ہی نادانیوں کی دھول میں ایسا گم ہوا کہ خود سے بھی...
ہاتھ یا حوصلہ؟
زندگی کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ یہ کسی سہارے کی محتاج نہیں، اور نہ ہی کسی رُکے ہوئے قدم کو راستہ دیتی ہے۔ کچھ لوگ راستے میں ہاتھ تھامنے والے ڈھونڈتے ہیں، اور کچھ اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر خاموشی سے چلتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ...
خوشی کی گمشدہ چابی
یہ دنیا ایک عجیب سراب ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی تلاش میں سرگرداں ہیں، مگر جس چیز کو پانے کی آرزو میں زندگی گزار دیتے ہیں، وہ مل جانے کے بعد اکثر اپنی کشش کھو دیتی ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا وہ تضاد ہے جو ہمیں کبھی مطمئن نہیں...
