(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
نسان ہمیشہ روشنی سے محبت کرتا ہے، مگر روشنی کی قیمت سے نہیں۔ وہ ستارے کو دیکھتا ہے مگر اس آگ کو نہیں دیکھتا جو اسے ستارہ بناتی ہے۔ وہ سورج کی کشش سے متاثر ہوتا ہے مگر اس مسلسل احتراق کو بھول جاتا ہے جو اس کشش کی بنیاد ہے۔ شاید اسی لیے ہم زندگی بھر ان لوگوں پر رشک کرتے رہتے ہیں جن کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے، جن کے لفظوں میں تاثیر، شخصیت میں جاذبیت اور موجودگی میں مقناطیسیت ہوتی ہے، لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ہر بڑی کشش کے پیچھے ایک بڑا دکھ چھپا ہوتا ہے۔
کائنات کا ہر جسم ہمیں ایک راز سکھاتا ہے۔ زمین میں کشش ہے، اسی لیے ہم اس پر قائم ہیں۔ اگر زمین اپنی کشش کھو دے تو زندگی بکھر جائے۔ سورج کی کشش اس سے کہیں زیادہ ہے، اسی لیے پورا نظامِ شمسی اس کے گرد گردش کرتا ہے۔ مگر یہ کشش کسی تحفے کا نتیجہ نہیں، یہ مسلسل جلنے کا حاصل ہے۔ سورج ہر لمحہ اپنا وجود جلا رہا ہے، اپنے ہی جسم کو راکھ میں بدل رہا ہے تاکہ دوسروں کو روشنی، حرارت اور مرکزیت دے سکے۔
انسان بھی عجیب ہے۔ وہ سورج جیسی کشش چاہتا ہے مگر سورج جیسا جلنا نہیں چاہتا۔ وہ چاہتا ہے لوگ اس کے گرد جمع رہیں، اس کی بات سنیں، اس کی موجودگی کو محسوس کریں، اس کے بغیر ادھورا پن محسوس کریں، مگر وہ اس قربانی کے لیے تیار نہیں ہوتا جو ایسی کشش پیدا کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخصیت جو لوگوں کے دلوں کو باندھ لیتی ہے، اس کے اندر کہیں نہ کہیں ایک خاموش آگ جل رہی ہوتی ہے۔ کوئی محرومی، کوئی تنہائی، کوئی جدوجہد، کوئی شکست، کوئی قربانی، جو اس کی شخصیت کو حرارت دیتی رہتی ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ محبوب ہونا خوش نصیبی ہے۔ لیکن بعض اوقات محبوب ہونا ایک عذاب بھی بن جاتا ہے۔ لوگ آپ سے جڑتے ہیں، آپ سے توقعات وابستہ کرتے ہیں، آپ کے گرد اپنے خواب تعمیر کرتے ہیں، اور پھر آپ کی ذات آہستہ آہستہ ایک انسان سے زیادہ ایک ضرورت بن جاتی ہے۔ ایسے میں انسان اپنے وجود کی آزادی کھونے لگتا ہے۔ وہ سب کے قریب ہوتا ہے مگر کسی کا نہیں ہوتا۔ بالکل ویسے ہی جیسے سورج تمام سیاروں کا مرکز ہے مگر کسی سیارے کا ساتھی نہیں۔
کشش کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ فاصلے اس کی شدت کو بدل دیتے ہیں۔ بہت قریب آ جاؤ تو جلنے لگتے ہو، بہت دور چلے جاؤ تو سردی مارنے لگتی ہے۔ شاید اسی لیے بعض رشتے مداروں میں گھومتے ہیں۔ قریب بھی ہوتے ہیں اور دور بھی۔ وابستہ بھی ہوتے ہیں اور آزاد بھی۔ لوگ ایک دوسرے کے گرد گردش تو کرتے ہیں مگر ایک دوسرے کے اندر نہیں اترتے۔
پھر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب کشش اپنے ہی بوجھ تلے دبنے لگتی ہے۔ کائنات ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے ستارے ہمیشہ ستارے نہیں رہتے۔ ایک وقت آتا ہے جب ان کا ایندھن ختم ہو جاتا ہے۔ وہ باہر سے روشن دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے خالی ہو چکے ہوتے ہیں۔ پھر اچانک ایک دن وہ اپنے ہی وجود پر منہدم ہو جاتے ہیں۔ ان کا سارا جلال، ساری روشنی، ساری توانائی ایک ایسے اندھیرے میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے بلیک ہول کہتے ہیں۔
انسانوں میں بھی ایسے بلیک ہول پیدا ہوتے ہیں۔
وہ لوگ جو عمر بھر دوسروں کو سنبھالتے ہیں، ایک دن خود اپنے اندر گرنے لگتے ہیں۔ وہ جو سب کو امید دیتے تھے، اپنی امید کھو بیٹھتے ہیں۔ جو سب کے لیے روشنی تھے، اپنے اندر اندھیرا پال لیتے ہیں۔ باہر سے وہ اب بھی ویسے ہی نظر آتے ہیں، مگر اندر ایک خاموش انہدام جاری ہوتا ہے۔ پھر ان کی کشش خوفناک ہو جاتی ہے۔ وہ محبت نہیں کھینچتے، درد کھینچتے ہیں۔ وہ قربت نہیں مانگتے، خلا پیدا کرتے ہیں۔ ان کے اندر ایک ایسا اندھیرا جنم لیتا ہے جو روشنی تک کو جذب کر لیتا ہے۔
یہی اجسام کا دکھ ہے۔
جو جتنا بڑا ہوتا ہے، اس کا زوال بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔
جو جتنا زیادہ روشنی دیتا ہے، اس کے بجھنے کا منظر بھی اتنا ہی ہولناک ہوتا ہے۔
جو جتنا زیادہ لوگوں کو اپنے گرد باندھتا ہے، اس کی تنہائی بھی اتنی ہی گہری ہوتی ہے۔
کائنات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کشش ایک نعمت ضرور ہے، مگر اس سے بڑی نعمت توازن ہے۔ سورج اگر اپنی کشش میں حد سے بڑھ جائے تو سیارے اس میں گر پڑیں، اور اگر کم ہو جائے تو سب بکھر جائیں۔ زندگی بھی اسی اعتدال کا نام ہے۔ نہ اتنا قریب کہ دوسروں کی ہستی مٹ جائے، نہ اتنا دور کہ تعلق کا رشتہ ہی ٹوٹ جائے۔
آخرکار زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ زندگی زندگی کو کھینچتی ہے، مگر موت زندگی کو بھی اپنی طرف بلا لیتی ہے۔ ہر جسم ایک سفر میں ہے۔ کوئی زمین ہے، کوئی سورج، کوئی ستارہ اور کوئی بلیک ہول۔ مگر سب کے اندر ایک مشترک دکھ موجود ہے؛ فنا کا دکھ۔ وجود کے ختم ہو جانے کا دکھ۔ اس حقیقت کا دکھ کہ جتنا زیادہ روشن ہو گے، اتنا ہی زیادہ جلنا پڑے گا۔
شاید اسی لیے کائنات کی سب سے بڑی حکمت کشش نہیں، فنا ہے۔
کیونکہ جو فنا کو سمجھ لیتا ہے، وہ کشش کے غرور سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اور جو کشش کے غرور سے آزاد ہو جائے، وہ روشنی بانٹتا ہے، روشنی کا مالک بننے کی کوشش نہیں کرتا۔
