(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی سب سے قدیم بھول یہ ہے کہ وہ آئینے کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ عکس کو دیکھ کر چہرے کا فیصلہ کر دیتا ہے، مگر یہ نہیں سوچتا کہ آئینہ صرف وہی دکھاتا ہے جو اُس کے سامنے کھڑا ہو۔ جو پیچھے رہ گیا، جو ٹوٹ کر بکھر گیا، جو وقت کی گرد میں گم ہو گیا، اُس کا کوئی عکس نہیں بنتا۔
ہماری پوری زندگی شاید اُن چیزوں سے زیادہ نہیں بنی جو ہمیں دکھائی دیتی ہیں، بلکہ اُن چیزوں سے بنی ہے جو ہماری نگاہ سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔
کائنات کا ایک عجیب اصول ہے: نشان اکثر بچ جانے والوں پر ملتے ہیں، مگر راز اُن پرانے زخموں میں دفن ہوتے ہیں جو نشان بننے سے پہلے ہی مٹ گئے۔ جو کہانیاں ہمارے پاس پہنچتی ہیں، ضروری نہیں کہ وہ مکمل سچ ہوں؛ کئی بار وہ صرف اُن کرداروں کی داستانیں ہوتی ہیں جو آخری صفحے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
ہم کامیابی کو ایک روشن مینار کی طرح دیکھتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر مینار کے نیچے بے شمار پتھر ایسے بھی دفن ہوتے ہیں جن پر کبھی نام نہیں لکھا جاتا۔ تاریخ فاتح کے قدموں کے نشان محفوظ رکھتی ہے، مگر اُن راستوں پر پڑی ہوئی تھکن، آنسو اور ٹوٹے ہوئے حوصلوں کا کوئی رجسٹر نہیں بناتی۔
یہی وجہ ہے کہ انسان اکثر کامیابی کے ظاہری نقشے خرید لیتا ہے۔ وہ کسی کامیاب شخص کی عادت، طریقہ یا معمول کو کامیابی کی کنجی سمجھ لیتا ہے، حالانکہ زندگی کے دروازے صرف ایک چابی سے نہیں کھلتے۔ بعض دروازے قسمت کے زنگ سے کھلتے ہیں، بعض حالات کی ہوا سے، بعض دوسروں کے ہاتھوں سے، اور بعض صرف اُس لمحے کی مہربانی سے جو کسی کے حصے میں آ جاتا ہے۔
ہم ایک درخت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ بلند اس لیے ہوا کہ اس نے آسمان کو چاہا، مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ زمین کے اندر کتنی جڑیں اندھیروں میں محنت کرتی رہیں، کتنی شاخیں موسموں سے لڑ کر ٹوٹ گئیں، اور کتنے بیج ایسے تھے جو مٹی میں ہی اپنی کہانی مکمل کر گئے۔
انسانی ذہن کو چمکتی ہوئی چیزوں سے محبت ہے۔ وہ ستاروں کو گنتا ہے مگر اُس سیاہ خلا کو نہیں دیکھتا جس میں وہ ستارے تنہا جل رہے ہوتے ہیں۔ وہ دریا کی روانی کو سراہتا ہے مگر اُن چشموں کو بھول جاتا ہے جو راستے میں سوکھ گئے۔
ہم معاشرے میں بھی یہی غلطی کرتے ہیں۔ ہم چند کامیاب مثالوں کو قانون بنا دیتے ہیں۔ کسی دولت مند شخص کی جدوجہد سن کر یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی جدوجہد سے گزرنے والے کتنے لوگ خاموش گمنامی میں دفن ہو گئے۔ کسی فاتح کی داستان سن کر یہ بھول جاتے ہیں کہ شکست خوردہ لوگوں کے پاس بھی خواب تھے، محنت تھی، خواہش تھی؛ بس اُن کی کہانی کو لکھنے والا کوئی نہیں تھا۔
اصل دانائی شاید یہی ہے کہ انسان صرف نظر آنے والے ثبوتوں کا غلام نہ بنے۔ وہ سوال کرے کہ جو منظر سامنے ہے، اُس کے پیچھے کون سا منظر چھپا ہوا ہے؟ جو آواز بلند ہے، اُس کے نیچے کتنی خاموش صدائیں دفن ہیں؟ جو کامیابی چمک رہی ہے، اُس کے سائے میں کتنی ناکام کوششیں سو رہی ہیں؟
زندگی ایک وسیع سمندر ہے، اور ہماری نظر صرف اُس جھاگ کو دیکھتی ہے جو لہروں کے اوپر بنتی ہے۔ مگر گہرائیوں میں اصل طوفان، اصل موتی، اور اصل راز چھپے ہوتے ہیں۔
حقیقت ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو ہمیں مل جاتی ہے؛ کبھی کبھی حقیقت وہ ہوتی ہے جس کے نہ ملنے نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔
کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑا ثبوت موجودگی نہیں ہوتی، بلکہ وہ خلا ہوتا ہے جس کی خاموشی چیخ چیخ کر بتا رہی ہوتی ہے کہ یہاں کوئی بہت اہم چیز گزر چکی ہے۔
