(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
گروپ میں ایک عجیب سا دستور چل نکلا تھا۔
لفظ کم اور ردِعمل زیادہ بولنے لگے تھے۔
ہر صبح ایک نیا شعر آتا، جیسے کسی نے دل کی الماری کھول کر جذبات سجا دیے ہوں۔ مگر اصل بات شعر نہیں تھا… اصل بات اس کے نیچے لگنے والے چھوٹے چھوٹے نشان تھے؛ ہاتھ کے اشارے، دل کی شکلیں، اور واہ واہ کے جملے۔
ایک شاعر ہر بار نئی تخلیق کے ساتھ آتا، مگر اس کی نظریں لفظوں سے پہلے نیچے کے کمنٹ سیکشن پر جا ٹھہرتیں۔ اگر ہجوم داد دیتا تو وہ خود کو زندہ محسوس کرتا، اور اگر خاموشی ہوتی تو جیسے لفظوں سے روح نکل جاتی۔
دوسری طرف کچھ لوگ تھے جو ہر پوسٹ پر موجود ہوتے، مگر ان کی داد میں ایک عجیب سا حساب تھا۔ وہ داد کم دیتے، اور یاد زیادہ رکھتے۔
“اس نے میری پوسٹ کو دیکھا تھا یا نہیں؟” یہ سوال اب تخلیق سے بڑا ہو چکا تھا۔
پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی۔
لوگ لکھنے سے زیادہ گننے لگے۔۔کتنے نے دیکھا، کتنے نے داد دی، اور کتنے نے نظر انداز کیا۔
اور یوں ادب آہستہ آہستہ لفظوں سے نکل کر “ردِعمل کی معیشت” میں بدل گیا۔
ایک دن ایک پرانا لکھنے والا خاموشی سے گروپ چھوڑ گیا۔ اس نے جاتے ہوئے کوئی اعلان نہیں کیا، کوئی شکوہ نہیں لکھا۔ بس اس کی آخری تحریر آج بھی وہیں پڑی تھی… نیچے بالکل خالی، بغیر کسی نشان کے۔
اور شاید وہی سب سے بڑا تبصرہ تھا۔
مگر یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی تھی۔
کیونکہ اسی گروپ میں اب ایک نیا مزاج پیدا ہو چکا تھا… ایک بےچینی، ایک مقابلہ، ایک خاموش سا خوف کہ کہیں نظر انداز نہ ہو جائیں۔ اور یہ خوف آہستہ آہستہ تخلیق سے زیادہ “ظاہر ہونے” کی خواہش میں بدلنے لگا۔
اب ہر شاعر کے ہاتھ میں صرف غزل نہیں تھی… بلکہ ایک بےچین انتظار بھی تھا کہ اس کی باری کب آئے گی۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں کہانی نے دوسرا رخ لیا۔
گروپ میں لفظ اب لفظ نہیں رہے تھے، وہ ایک دوڑ بن چکے تھے۔
ہر شاعر اپنی غزل لے کر آتا، جیسے کوئی چراغ روشن کر رہا ہو، مگر اس سے پہلے کہ روشنی پھیلتی، دوسرا اپنی تخلیق لے کر آ جاتا۔ مقصد اظہار کم، اور پہلے کو پیچھے چھوڑنا زیادہ تھا۔
جیسے ہی کوئی غزل آتی، ابھی اس کے نیچے دو تعریفی جملے بھی مکمل نہ ہوتے کہ ایک اور پوسٹ آ کر اس پر سایہ ڈال دیتی۔ پھر تیسری، پھر چوتھی… یوں لفظ ایک دوسرے کے نیچے دبنے لگے تھے، جیسے کوئی ان کا وزن ہی برداشت نہیں کر پا رہا ہو۔
ہر کسی کو یہی فکر تھی کہ اس کی غزل دب نہ جائے، اس کی داد رہ نہ جائے۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ سب کو شکایت بھی سب سے زیادہ اسی بات کی تھی۔
کچھ لوگ حسابی مزاج کے ساتھ آتے۔۔وہ پہلے دیکھتے کہ کس نے کس کو داد دی ہے، اور پھر اسی ترتیب سے اپنی تخلیق رکھتے۔ یہاں محبت نہیں تھی، ردِعمل کی منطق تھی۔
اور پھر ایک دن یہ کھیل ایک اور سطح پر پہنچ گیا۔
اب غزلیں صرف لکھی نہیں جاتی تھیں، بلکہ ایک دوسرے پر “اتاری” جاتی تھیں۔ جیسے ہی ایک شاعر اپنا کلام رکھتا، دوسرا فوراً اپنی پوسٹ لگا دیتا تاکہ پہلی آواز دھندلا جائے۔ تیسرا اس کے اوپر آ جاتا۔
یوں ہر آواز دوسری آواز کو خاموش کرنے میں مصروف ہو گئی تھی۔
اور یوں لگنے لگا کہ وہاں ادب نہیں بلکہ ایک شور ہے… جہاں سب بول رہے ہیں مگر کوئی سن نہیں رہا۔
کبھی کبھی کوئی پرانی تحریر اس ہجوم میں کھو کر رہ جاتی، جیسے اس نے کبھی اپنی موجودگی کا اعلان ہی نہ کیا ہو۔ اور وہی تحریریں سب سے زیادہ سچی لگتی تھیں، کیونکہ ان کے نیچے نہ داد تھی، نہ مقابلہ… بس خاموشی تھی۔
اور آخر میں یہ سوال بچ جاتا تھا:
اگر ہر کوئی بول رہا ہو، اور ہر کوئی سنا جانا چاہتا ہو…
تو پھر سننے والا کون رہے گا؟
اور شاید اسی لمحے ادب اپنی اصل جگہ سے ہٹ کر ایک ایسے بازار میں بدل چکا تھا جہاں لفظ بک نہیں رہے تھے…
بلکہ صرف شور خریدا اور بیچا جا رہا تھا۔
