(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات میں سب سے پہلا اندھیرا شاید کوکھ تھا۔۔۔
اور سب سے پہلی روشنی بھی۔
انسان نے جب پہلی بار آنکھ کھولی تو وہ کسی سلطنت، کسی مذہب، کسی زبان، کسی فلسفے یا کسی تہذیب میں نہیں تھا۔۔۔ وہ ایک عورت کی کوکھ میں تھا۔ وہیں اس نے پہلی دھڑکن سنی، پہلی خاموشی محسوس کی، پہلا خوف جھیلا، پہلی دعا سیکھی۔ کوکھ دراصل انسان کا پہلا وطن ہے۔۔۔ اور شاید آخری حسرت بھی۔
عجیب بات ہے کہ دنیا کی ہر شے کو تاریخ میسر آئی، مگر کوکھ ہمیشہ راز رہی۔ سائنس نے اس کے گرد خون کی گردش لکھ دی، مذہب نے تقدیس کا ہالہ بنا دیا، ادب نے استعارہ کہہ کر گزر جانا چاہا۔۔۔ مگر کوکھ ان سب سے بڑی حقیقت ہے۔ یہ محض جسمانی عضو نہیں؛ یہ تخلیق کے ازلی کرب کا دوسرا نام ہے۔
ہر ماں اپنی کوکھ میں صرف بچہ نہیں پالتی۔۔۔
وہ ایک پورا زمانہ پالتی ہے۔
ایک لہجہ، ایک خواب، ایک مستقبل، ایک قیامت۔
وہ اپنے خون سے ایک ایسا وجود تراشتی ہے جو ایک دن اسی کی آنکھوں میں تنہائی چھوڑ جاتا ہے۔ یہی کوکھ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔۔۔ تخلیق ہمیشہ اپنے خالق سے جدا ہو جاتی ہے۔
شاید اسی لیے ہر عورت کے اندر ایک خاموش قبرستان آباد ہوتا ہے۔۔۔ وہاں ان بچوں کی ہڈیاں بھی دفن ہوتی ہیں جو کبھی پیدا نہ ہو سکے، ان خوابوں کی راکھ بھی جو معاشرے نے روند دی، اور ان چیخوں کی بازگشت بھی جنہیں عزت، روایت، صبر اور وفا کے نام پر خاموش کروا دیا گیا۔
کوکھ صرف جنم نہیں دیتی۔۔۔
کوکھ دفن بھی کرتی ہے۔
وہ اپنے اندر کتنے موسم دفن کرتی ہے، کوئی نہیں جانتا۔
کتنے لمس، کتنی بےوفائیاں، کتنی سسکیاں، کتنی نامکمل محبتیں۔۔۔
عورت ہنستی رہتی ہے اور اس کی کوکھ خاموشی سے ماتم کرتی رہتی ہے۔
مگر حیرت دیکھئے۔۔۔
اسی ماتم سے زندگی جنم لیتی ہے۔
یہ دنیا دراصل عورت کے صبرِ بےپناہ کی بنیادوں پر قائم ہے؛ وہ صبر جو لیبر روم کی تنگ و تاریک ساعتوں میں زندگی اور موت کے باریک ترین فاصلے پر کھڑی ہو کر بھی زندگی کو اپنے وجود کی اذیت سے دھکیل دیتی ہے، اور خود لمحہ بہ لمحہ ٹوٹتی بکھرتی مگر تخلیق کے عمل کو مکمل کرتی چلی جاتی ہے۔
مرد تاریخ لکھتا ہے، سلطنتیں بناتا ہے، جنگیں لڑتا ہے۔۔۔ مگر انسان صرف عورت پیدا کرتی ہے۔
کوکھ ایک ایسا کرب ہے جسے خدا نے تخلیق کے برابر رکھا۔
شاید اسی لیے جنت ماں کے قدموں تلے رکھی گئی۔۔۔ کیونکہ جنت بھی آخرکار ایک محفوظ کوکھ ہی تو ہے، جہاں خوف نہیں، محرومی نہیں، جدائی نہیں۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے جب عورت بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی اپنے بچوں کو دیکھتی ہے۔۔۔
وہی بچے جو کبھی اس کی کوکھ میں سمٹے رہتے تھے، اب دنیا کی وسعتوں میں گم ہو چکے ہوتے ہیں۔ تب عورت پہلی بار سمجھتی ہے کہ کوکھ صرف جنم دینے کا عمل نہیں تھا۔۔۔
یہ خود کو مسلسل کھوتے رہنے کا نام تھا۔
کتنی عجیب بات ہے۔۔۔
انسان ساری عمر زمین خریدنے میں لگا رہتا ہے،
مگر اس کے وجود کی پہلی زمین ایک عورت کی کوکھ تھی۔
اور شاید آخری دن جب انسان مٹی میں اترتا ہے تو زمین اسے دوبارہ ویسے ہی اپنی تہوں میں چھپا لیتی ہے جیسے ماں کبھی اپنی کوکھ میں چھپایا کرتی تھی۔
یوں لگتا ہے جیسے زندگی کا پورا دائرہ دو کوکھوں کے درمیان قید ہے۔۔۔
ایک ماں کی کوکھ،
اور ایک زمین کی۔
درمیان میں جو کچھ ہے،
وہ صرف انسان کا غرور ہے۔
