(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تاریخ کا ایک خاموش مگر اٹل قانون ہے کہ جو شخص اپنے عہد سے آگے دیکھنے لگتا ہے، وہ اپنے عہد کی آنکھوں میں کھٹکنے لگتا ہے۔ زمانہ ہمیشہ اپنے وقت سے آگے نکلنے والوں کو پہلے غلط سمجھتا ہے، پھر ان کی مخالفت کرتا ہے، ان پر تہمتیں رکھتا ہے، ان کے راستے میں کانٹے بچھاتا ہے، اور آخرکار انہی کے قدموں کے نشانات کو منزل کا راستہ قرار دیتا ہے۔ یہ تاریخ کا وہ المیہ بھی ہے اور وہ حسن بھی، جو ہر دور میں ایک ہی صورت کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔
جو بھی حدودِ وقت سے آگے نکلتا ہے، اسے لہو کے چھینٹے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس لہو سے مراد صرف جسم کے زخم نہیں ہوتے، بلکہ کردار پر لگنے والے داغ، تنہائی کی اذیت، غلط سمجھے جانے کا دکھ، اپنوں کی بے اعتنائی، دوستوں کی خاموشی اور زمانے کی سنگ باری بھی اسی لہو کی مختلف صورتیں ہیں۔ بعض انسان تلوار سے زخمی ہوتے ہیں اور بعض لفظوں سے؛ مگر لفظوں کے زخم اکثر تلوار کے زخموں سے زیادہ دیر تک رستے رہتے ہیں۔
زمانہ نئی روشنی سے خوف زدہ رہتا ہے، کیونکہ ہر نئی روشنی پرانی آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے۔ لوگ چراغ کی روشنی سے پہلے اس کی چنگاری سے ڈرتے ہیں۔ وہ ہر اس آواز کو بغاوت سمجھتے ہیں جو ان کے مانوس سکوت کو توڑ دے، ہر اس فکر کو فتنہ قرار دیتے ہیں جو جمود کے ایوانوں میں دراڑ ڈال دے، اور ہر اس شخص کو خطرہ سمجھتے ہیں جو روایت کی قبر پر سوال کا پہلا پتھر رکھ دے۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے بڑے کردار اپنی زندگی میں کم اور اپنی جدائی کے بعد زیادہ سمجھے گئے۔ ان کے الفاظ پہلے مسترد ہوئے، پھر محفوظ کیے گئے؛ ان کے خیالات پہلے جرم ٹھہرے، پھر نصاب بن گئے؛ ان کے راستے پہلے سنسان رہے، پھر شاہراہوں میں ڈھل گئے۔ سچ ہمیشہ تالیاں نہیں پاتا، کبھی کبھی وہ صرف صلیب پاتا ہے۔ مگر یہی صلیب آنے والے زمانوں کے لیے مینار بن جاتی ہے۔
عظمت کی قیمت ہمیشہ تنہائی رہی ہے۔ جو شخص صرف مقبول ہونا چاہتا ہے، وہ کبھی غیر معمولی نہیں بن سکتا۔ غیر معمولی انسان تعریف سے نہیں، مخالفت سے پہچانا جاتا ہے۔ جب ہر طرف سے مخالفت کی آندھیاں اٹھنے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ کسی نے وقت کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پہلا پتھر پھینک دیا ہے۔
ہر عہد اپنے محسنوں کے ساتھ انصاف کرنے میں دیر کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سچ کمزور ہوتا ہے، بلکہ اس لیے کہ سچ کی رفتار ہمیشہ زمانے کی رفتار سے تیز ہوتی ہے۔ وقت پیچھے چلتا ہے، حقیقت آگے چلتی ہے۔ اس فاصلے کو کم ہونے میں کبھی برس لگتے ہیں، کبھی صدیاں۔
انسان اگر صرف محفوظ رہنے کے لیے جئے تو شاید کبھی زخمی نہ ہو، مگر پھر وہ کبھی تاریخ بھی نہیں بنتا۔ تاریخ انہی لوگوں کے نام یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے سکون کو کسی بڑے مقصد پر قربان کیا۔ جنہوں نے یہ سودا قبول کیا کہ ان کے حصے میں تعریف کم اور آزمائش زیادہ آئے گی، مگر آنے والی نسلیں ان کے چراغ سے اپنی راتیں روشن کریں گی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر اختلاف عظمت کی دلیل نہیں، اور ہر مخالفت حق کی علامت نہیں۔ مگر جب کوئی انسان ذاتی مفاد سے بلند ہو کر سچ، خیر اور انسانیت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اسے اپنی نیت کا اجر فوری داد کی صورت میں نہیں ملتا۔ اکثر اسے خاموشی، تنہائی اور اذیت کے موسموں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ موسم ہیں جہاں کردار کندن بنتا ہے۔
وقت سے آگے نکلنے والے لوگ دراصل اپنے عہد سے نہیں لڑتے، وہ اس کی محدود سوچ سے آگے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ آنے والے کل پر ہوتی ہے، جبکہ ان کے ناقد صرف آج کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے دونوں ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے۔ ایک مستقبل کی زبان بول رہا ہوتا ہے اور دوسرا حال کی لغت میں قید ہوتا ہے۔
زندگی کا اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کے دامن پر لہو کے کتنے چھینٹے پڑے، بلکہ یہ ہے کہ وہ لہو کس مقصد کے لیے بہا۔ اگر وہ انا کے لیے تھا تو ضائع ہو گیا، اور اگر وہ حق، خیر، انصاف، علم اور انسانیت کے لیے تھا تو وہ لہو زمین پر نہیں گرتا، تاریخ کی پیشانی پر لکھا جاتا ہے۔
اس لیے اگر کبھی سچ بولنے، نئی راہ دکھانے، خیر کا چراغ جلانے یا جمود کو توڑنے کی قیمت تنہائی، مخالفت یا زخموں کی صورت میں ادا کرنا پڑے تو گھبرائیے نہیں۔ یہ قیمت ہمیشہ انہی سے وصول کی جاتی ہے جو اپنے وقت سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وقت اپنے دائرے سے باہر قدم رکھنے والوں کو کبھی پھولوں سے خوش آمدید نہیں کہتا؛ وہ پہلے ان کے قدموں کو لہو میں رنگتا ہے، پھر انہی قدموں کے نشانات کو آنے والی نسلوں کی منزل بنا دیتا ہے۔
