(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
محبت کی سب سے بلند منزل شاید وصال نہیں، بلکہ وہ خاموش وفاداری ہے جو جواب نہ ملنے کے باوجود اپنے ظرف کو نہیں چھوڑتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان ختم ہو جاتا ہے اور خدا شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ یکطرفہ محبت کو آخر تک نبھانا صرف خدا کی صفت ہے۔ وہ ہر صبح ان لوگوں پر بھی سورج طلوع کرتا ہے جو اس کا انکار کرتے ہیں، ہر سانس ان سینوں میں بھی جاری رکھتا ہے جو اس کی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں، ہر لمحہ ان ہاتھوں کو بھی رزق دیتا ہے جو کبھی شکر کے لیے نہیں اٹھتے۔ وہ محبت کرتا ہے، مگر بدلے میں محبت کی شرط نہیں رکھتا۔ انسان جب محبت کرتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ سامنے والا بھی اسی شدت سے چاہے، مگر خدا چاہتا ہے، دیتا ہے، سنبھالتا ہے، ڈھانپتا ہے، پھر بھی کسی کو اپنی محبت پر مجبور نہیں کرتا۔
شاید اسی لیے انسان کی یکطرفہ محبت اکثر تھک جاتی ہے، کیونکہ وہ خدا کی صفت کو اپنے محدود ظرف میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ انتظار کرتا ہے، امیدیں باندھتا ہے، خواب بناتا ہے، پھر ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ جن راستوں پر وہ کسی اور کے قدموں کی چاپ سننے کے لیے کھڑا تھا، وہاں تو صرف اس کی اپنی آہٹ تھی۔ اس لمحے اگر وہ ٹوٹنے کے بجائے خود کو پا لے تو سمجھ لیجیے محبت نے اپنا سب سے بڑا سبق دے دیا۔
اکیلے سفر کرنے والوں کی قسمت میں شاید منزلیں کم نہیں ہوتیں، صرف ہمسفر کم ہوتے ہیں۔ مگر یہی کمی ان کی سب سے بڑی آزادی بن جاتی ہے۔ وہ کسی کے بدل جانے سے نہیں ٹوٹتے، کسی کے چھوڑ جانے سے راستہ نہیں بدلتے، کسی کے وعدہ فراموش ہونے سے اپنی سمت نہیں کھوتے۔ انہیں ہر موڑ پر یہ خوف نہیں ستاتا کہ کون ہاتھ چھوڑ دے گا، کون کسی اور قافلے کا حصہ بن جائے گا، کون ہجوم میں انہیں پہچاننے سے انکار کر دے گا۔ ان کے قدم اپنے فیصلوں کے پابند ہوتے ہیں، دوسروں کی وفاؤں کے نہیں۔
زندگی کا سب سے بھاری بوجھ بے وفائی نہیں، بلکہ اس کا خوف ہے۔ بہت سے لوگ دھوکے سے نہیں مرتے، دھوکے کے اندیشے میں جینا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ دلوں کے گرد دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں، تعلقات کے دروازوں پر تالے لگا دیتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے لیے انہوں نے اپنی روح کے دریچے کھولے تھے، وہی ایک دن موسم بدلتے ہی راستہ بدل گئے۔ مگر جو تنہا چلنا سیکھ لیتا ہے، وہ اس خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس کی خوشی کسی کی موجودگی کی محتاج نہیں رہتی اور اس کا سکون کسی کی وفاداری پر قائم نہیں ہوتا۔
عجیب بات ہے کہ ہجوم ہمیشہ انسان کو تنہا کر دیتا ہے، اور تنہائی اکثر انسان کو اپنے رب کے قریب لے آتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ تنہا آدمی محروم ہے، حالانکہ بعض اوقات وہ سب سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ اس کے پاس کھونے کے لیے وہم نہیں ہوتے، بچانے کے لیے مصنوعی رشتے نہیں ہوتے، ثابت کرنے کے لیے جھوٹی محبتیں نہیں ہوتیں۔ اس کے پاس صرف وہ خود ہوتا ہے، اور جب انسان خود کو پا لیتا ہے تو آدھی کائنات اس کے اندر آباد ہو جاتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر رفاقت منزل تک پہنچانے کے لیے نہیں آتی۔ کچھ لوگ صرف اتنی دیر کے لیے ملتے ہیں کہ آپ کو یہ سکھا سکیں کہ راستہ کسی ایک شخص کا نام نہیں۔ اگر ہر ساتھ ہمیشہ باقی رہتا تو شاید انسان خدا کو کبھی نہ پکارتا۔ اگر ہر ہاتھ آخر تک تھامے رہتا تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس لیے بعض جدائیاں سزا نہیں ہوتیں، وہ اسباق ہوتی ہیں جو انسان کو مخلوق کے سہاروں سے اٹھا کر خالق کے سہارے تک لے جاتی ہیں۔
اصل آزادی یہ نہیں کہ انسان کے پاس بہت سے لوگ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ اگر سب چلے جائیں تو بھی اس کے اندر کی روشنی بجھ نہ سکے۔ جو شخص اپنی امید ایک دل سے باندھتا ہے، وہ اس دل کے ٹوٹنے کے ساتھ بکھر جاتا ہے۔ مگر جو اپنی امید خدا سے باندھ لیتا ہے، اس کی دنیا میں خزاں بھی آ جائے تو اس کے اندر بہار باقی رہتی ہے۔
آخرکار انسان کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ ہر محبت کا انجام ساتھ نہیں ہوتا، لیکن ہر سچی محبت کا انجام شعور ضرور ہوتا ہے۔ جو محبت مل کر بھی انسان کو بہتر نہ بنا سکے، وہ صرف خواہش تھی؛ اور جو محبت بچھڑ کر بھی انسان کو اپنے رب کے قریب کر دے، وہ نعمت تھی۔
اس لیے اگر کبھی زندگی آپ کو اکیلے سفر پر مجبور کر دے تو اسے محرومی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے یہ وہ راستہ ہو جہاں آپ سے سب کچھ لے کر آپ کو آپ ہی لوٹا دیا جائے۔ کیونکہ بعض اوقات سب سے عظیم رفاقت کسی انسان کے ساتھ نہیں، اپنے رب کے ساتھ شروع ہوتی ہے، اور جس دن یہ رفاقت نصیب ہو جائے، اس دن تنہائی بھی عبادت بن جاتی ہے، خاموشی بھی دعا بن جاتی ہے، اور اکیلا سفر بھی منزل سے زیادہ خوبصورت محسوس ہونے لگتا ہے
