(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی زبان بہت کچھ کہہ سکتی ہے، مگر اس کی زندگی اس سے کہیں زیادہ کہتی ہے۔ لفظوں کی گونج چند لمحوں تک سنائی دیتی ہے، جبکہ کردار کی بازگشت نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ اسی لیے دنیا نے ہمیشہ ان لوگوں کی بات کو دل سے قبول کیا جنہوں نے اپنی زندگی کو اپنے نظریات کی دلیل بنایا۔ دلیل اگر صرف زبان پر ہو تو اختلاف پیدا کرتی ہے، لیکن جب وہی دلیل انسان کے عمل میں ڈھل جائے تو خاموشی سے دلوں کو مسخر کر لیتی ہے۔
ہر شخص نصیحت کر سکتا ہے، ہر شخص وعظ کر سکتا ہے، ہر شخص اچھے جملے لکھ اور بول سکتا ہے، مگر ہر شخص اپنی ذات کو اس پیمانے پر نہیں ڈھال سکتا جہاں اس کی زندگی خود ایک دلیل بن جائے۔ الفاظ کی خوبصورتی ذہن کو متاثر کرتی ہے، لیکن کردار کی خوبصورتی روح کو بدل دیتی ہے۔ اسی لیے معاشروں کی تعمیر کتابوں سے پہلے انسانوں نے کی ہے، اور اقوام کو تقریروں سے زیادہ نمونۂ عمل نے سنوارا ہے۔
دنیا میں خیالات کی کمی کبھی نہیں رہی، کمی ہمیشہ ان انسانوں کی رہی ہے جنہوں نے اپنے خیالات کی قیمت اپنی زندگی سے ادا کی۔ سچ کہنا آسان ہے، سچ بن جانا مشکل ہے۔ انصاف کی تعریف ہر زبان کر سکتی ہے، مگر انصاف پر قائم رہنا اس وقت جب اپنا مفاد مجروح ہو، یہی وہ مقام ہے جہاں کردار اپنی اصل صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔ امانت، دیانت، وفا، اخلاص، صبر، عفو اور ایثار جب تک لغت کے الفاظ ہیں، وہ صرف معلومات ہیں؛ لیکن جب یہی صفات کسی انسان کے وجود میں سانس لینے لگیں تو وہ معاشرے کے لیے روشنی بن جاتی ہیں۔
انسان دوسروں کی آنکھوں کو دھوکا دے سکتا ہے، مگر وقت کی آنکھ کو کبھی دھوکا نہیں دے سکتا۔ وقت ہر دعوے کو عمل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ جو کچھ زبان نے کہا اور ہاتھوں نے نہ کیا، وقت اسے خاموشی سے رد کر دیتا ہے۔ لیکن جس شخص کے قدم اس کے الفاظ کی گواہی دیں، اسے تاریخ بھی جھٹلا نہیں سکتی۔ اسی لیے عظیم انسانوں کی عظمت ان کی تصنیفات سے پہلے ان کی شخصیت میں نظر آتی ہے۔ ان کی تحریریں ان کے کردار کا عکس ہوتی ہیں، کردار کا بدل نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگ ہماری نصیحتوں سے کم اور ہماری عادتوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ ایک باپ اپنے بچوں کو ہزار مرتبہ سچ بولنے کی تلقین کرے، لیکن اگر وہ خود جھوٹ بولتا ہے تو بچے اس کے الفاظ نہیں، اس کا عمل یاد رکھیں گے۔ ایک استاد اخلاق پر بہترین لیکچر دے سکتا ہے، لیکن اگر اس کے رویّے میں انصاف نہ ہو تو اس کا درس اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ ایک رہنما خدمت کے نعرے لگا سکتا ہے، مگر اگر اس کی زندگی خود غرضی سے عبارت ہو تو اس کی آواز نعروں سے آگے نہیں بڑھتی۔
یہی وجہ ہے کہ کردار خاموش رہ کر بھی تعلیم دیتا ہے۔ سورج کبھی روشنی پر تقریر نہیں کرتا، پھول کبھی خوشبو کا اعلان نہیں کرتے، دریا کبھی اپنی سخاوت کا چرچا نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنی فطرت پر قائم رہتے ہیں، اور یہی ان کا سب سے بڑا تعارف ہوتا ہے۔ انسان بھی جب اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتا ہے تو اس کی خاموشی بھی ایک ایسی زبان بن جاتی ہے جسے ہر حساس دل سمجھ لیتا ہے۔
معاشروں کا زوال اس وقت شروع نہیں ہوتا جب ان کے پاس علم کم ہو جاتا ہے، بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب علم اور عمل کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ جب زبانیں صداقت کی بات کریں اور ہاتھ خیانت میں مصروف ہوں، جب منبروں سے انصاف کی آواز آئے مگر بازار ظلم سے بھر جائیں، جب تحریروں میں اخلاق کے چراغ روشن ہوں مگر کردار اندھیروں میں بھٹک رہے ہوں، تو الفاظ اپنی حرمت کھو دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایک باکردار انسان اپنی خاموش موجودگی سے وہ تبدیلی پیدا کر سکتا ہے جو ہزار خطبے بھی پیدا نہیں کر سکتے۔
حقیقی اثر ہمیشہ وجود سے پیدا ہوتا ہے، آواز سے نہیں۔ آواز کانوں تک پہنچتی ہے، وجود دلوں تک اترتا ہے۔ اسی لیے تاریخ نے ان لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھا جنہوں نے اپنے عقائد کو صرف لکھا یا بولا نہیں، بلکہ جیا۔ ان کی زندگی ان کے افکار کی زندہ تفسیر تھی۔ ان کے اعمال نے ان کے الفاظ کو اعتبار بخشا، اور ان کے کردار نے ان کی دعوت کو دوام عطا کیا۔
انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو اپنی بات سنانے میں کامیاب ہوا، بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگوں نے اس کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ جب کردار سچا ہو تو خاموشی بھی دعوت بن جاتی ہے، مسکراہٹ بھی تعلیم بن جاتی ہے، اور زندگی خود ایک ایسی کتاب بن جاتی ہے جس کا ہر ورق عمل، اخلاص اور صداقت کی روشنائی سے لکھا ہوا ہوتا ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو وقت کے گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتا بلکہ ہر آنے والی نسل کے لیے ایک نئے چراغ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
