وراثتِ دعا

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان صرف اپنے اعمال کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اُن دعاؤں کا تسلسل بھی ہوتا ہے جو اس سے پہلے کسی لب پر ٹھہری تھیں۔ یہ دعائیں اکثر والدین کی، دادا دادی یا نانا نانی کی ہوتی ہیں، جنہوں نے ہمیں اپنی محبت، نیکی اور سچی دعاؤں کے ذریعے محفوظ رکھا۔
انسان کی زندگی محض اس کے فیصلوں کی کہانی نہیں، بلکہ اُن سجدوں اور دعاؤں کی بازگشت بھی ہے جو کبھی اس کے لیے کی گئی تھیں۔۔خاموش، بے صدا، مگر حدِ قبولیت کو چھوتی ہوئی۔
یہ ایک عجیب سچ ہے کہ ہم اپنی آنکھ سے جو کچھ دیکھتے ہیں، وہی حقیقت نہیں ہوتا۔ ہمارے گرد ایک غیر مرئی حصار ہوتا ہے۔۔دعا کا، نسبت کا، اور ایک ایسی شفقت کا جو ہمیں ہمارے حال سے زیادہ ہمارے امکان کی نظر سے دیکھتی ہے۔
ہم بکھرنے لگتے ہیں، مگر کچھ ہمیں ٹوٹنے نہیں دیتا۔
ہم بھٹک جاتے ہیں، مگر کوئی نادیدہ ہاتھ ہمیں بہت دور جانے نہیں دیتا۔
وہ ہمیں واپس سیدھے راستے کی طرف کھینچتا ہے۔۔چاہے ہم خوشی سے خود آ جائیں، یا غم کے راستے سے مجبور ہو کر آئیں۔
یہ ہاتھ کس کا ہے؟
یہ اثر کہاں سے آتا ہے؟
یہ اُن لوگوں کی امانت ہے جنہوں نے ہمیں صرف جنم نہیں دیا، بلکہ اپنی عبادتوں، محنتوں اور دعاؤں میں ہمیں مانگا بھی ہے۔ جن کے سجدوں میں ہماری خطاؤں سے پہلے ہماری مغفرت لکھی جا چکی تھی۔
یہ وہی وراثت ہے جو زمین کے کاغذوں میں درج نہیں ہوتی، مگر تقدیر کے اوراق میں روشن حروف سے لکھی جاتی ہے۔ یہ ہر انسان کے پیچھے چھپی ہوئی نیکیوں کی روشنی ہے، جو اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔
انسان جب خود کو بہت خودمختار سمجھنے لگتا ہے، جب وہ اپنے راستے خود بنانے کا دعویٰ کرتا ہے، تب بھی وہ مکمل آزاد نہیں ہوتا۔ اس کے اندر کہیں ایک نرمی باقی رہتی ہے، ایک لرزش، ایک بے نام سی جھجک۔۔یہی وہ جگہ ہے جہاں دعا نے اپنا گھر بنایا ہوتا ہے۔
اگر انسان اس مقام پر شعور کی آنکھ کھول لے، تو وہ خود ہی سیدھا ہو جاتا ہے؛
ورنہ زندگی اسے غم کے راستے سے واپس لاتی ہے۔۔اور تب وہ اپنی اصل سمت پہچانتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے…
جب زندگی اپنی شدت کے ساتھ انسان کو جھنجھوڑتی ہے۔ سب سہارے ایک ایک کر کے گرنے لگتے ہیں، یقین کی دیواروں میں دراڑیں پڑتی ہیں، اور انسان اپنے ہی بنائے ہوئے غرور کے ملبے تلے دبنے لگتا ہے۔
اسی لمحے، کہیں بہت اندر سے ایک صدا اٹھتی ہے۔۔بے ساختہ، بے اختیار، سچی۔
یہ صدا انسان کی نہیں ہوتی…
یہ اس دعا کی ہوتی ہے جو کبھی اس کے لیے کی گئی تھی۔
یہ وہ صدا ہے جو والدین کی محبت، بزرگوں کی نیکی، اور روحانی وراثت کی صورت میں ہر انسان کے اندر زندہ رہتی ہے۔
آنکھ سے گرنے والا آنسو دراصل اُس وراثت کا اعلان ہوتا ہے جسے انسان چاہ کر بھی رد نہیں کر سکتا۔ یہ آنسو اس بات کی گواہی ہے کہ دل ابھی زندہ ہے۔۔اور جہاں دل زندہ ہو، وہاں راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
یہ آنسو کسی مذہب، کسی عمر یا کسی سماجی حیثیت کے پابند نہیں ہوتے؛ یہ انسان کی خاموش فطرت کی زبان ہیں، جو اسے اُس کی اصل حقیقت کی جانب کھینچتی ہے۔
زندگی انسان کو واپس لاتی ہے۔۔کبھی نرمی سے، کبھی سختی سے۔ مگر واپسی یقینی ہے۔ یہ واپسی کسی دلیل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک نسبت کا اثر ہے۔ اور نسبتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف وقت آنے پر اپنا رنگ دکھاتی ہیں۔
اگر انسان شعور سے خود ہی سیدھا ہو جائے، تو وہ خوشی کے ساتھ اپنی زندگی سنوارتا ہے؛
ورنہ زندگی اسے غم کے راستے سے سبق دے کر واپس لاتی ہے۔
دانش اسی میں ہے کہ انسان اس پکار کو وقت پر سن لے۔۔اس سے پہلے کہ حالات اسے جھکنے پر مجبور کریں، وہ خود اپنے اختیار سے جھک جائے۔
اس سے پہلے کہ آنسو بے بسی کی علامت بنیں، وہ انہیں پہچان کی روشنی بنا لے۔ کیونکہ یہ آنسو کبھی ضائع نہیں ہوتے؛ یہ انسان کو اس کی اصل پہچان کی طرف لے جاتے ہیں۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان اکیلا نہیں ہے۔
وہ اپنے ساتھ ایک ایسی دولت لیے پھرتا ہے جسے نہ وہ کما سکتا ہے، نہ کھو سکتا ہے۔۔وہ صرف اسے پہچان سکتا ہے۔
اور اس دولت کا نام ہے:
وراثتِ دعا

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top