(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تاریخِ انسانیت میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں زمانہ صرف یاد نہیں رکھتا بلکہ اپنے دل کی دھڑکنوں میں بسا لیتا ہے۔ کچھ نام محض نام نہیں ہوتے، وہ ایک فکر، ایک کردار، ایک ضمیر اور ایک ابدی پیغام بن جاتے ہیں۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ انہی مقدس اور آفاقی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ آپؓ کا ذکر آئے تو محبت عقیدت میں بدل جاتی ہے، عقیدت آنسو بن کر پلکوں پر اترتی ہے اور آنسو دعا بن کر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔
امام حسین رضی اللہ عنہ وہ مبارک ہستی ہیں جن کی ولادت پر مدینے کی فضائیں خوشیوں سے معطر ہوئیں، جن کے کانوں میں پہلی آواز اذانِ رسول ﷺ کی پڑی، جن کے لبوں نے سب سے پہلے لعابِ دہنِ رسول ﷺ کی حلاوت چکھی، جنہیں اپنی نانی کے آنگن میں نہیں بلکہ نبوت کے گلشن میں پرورش نصیب ہوئی۔ آپؓ جگر گوشۂ بتول، شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فرزند اور رحمۃ للعالمین ﷺ کے محبوب نواسے ہیں۔
رسول اکرم ﷺ کی محبتِ حسنین کسی عام محبت کا نام نہیں تھی۔ یہ محبت دراصل امت کو محبت کا معیار عطا کر رہی تھی۔ کبھی آپ ﷺ امام حسینؓ کو کندھوں پر بٹھا لیتے، کبھی سینے سے لگا لیتے، کبھی ان کے لبوں کا بوسہ لیتے اور کبھی اپنے رب کے حضور دعا کرتے:
“اے اللہ! میں حسین سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرما جو حسین سے محبت کرے۔”
یہ صرف ایک دعا نہیں، محبتِ حسین کو ایمان کے مدار میں داخل کر دینے والا اعلان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسینؓ سے محبت، محبتِ رسول ﷺ کی شاخ اور محبتِ رسول ﷺ، محبتِ الٰہی کا سرچشمہ ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا وجود فضائل و کمالات کا ایسا گلشن ہے جس کے ہر پھول سے نبوی خوشبو آتی ہے۔ عبادت میں خشوع ایسا کہ راتیں سجدوں میں بیت جاتیں، تقویٰ ایسا کہ دنیا کی رغبت دل میں جگہ نہ پاتی، سخاوت ایسی کہ سائل خالی نہ لوٹتا، حیا ایسی کہ نگاہیں جھک جاتیں، حلم ایسا کہ دشمن بھی گرویدہ ہو جاتے، اور شجاعت ایسی کہ باطل کے ایوان لرز اٹھتے۔
آپؓ علم کے اس گھرانے کے چشم و چراغ تھے جس کے دروازے پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔”
چنانچہ امام حسینؓ کے وجود میں علمِ نبوت، فہمِ علی، حیائے فاطمہ اور جمالِ مصطفیٰ ﷺ ایک ساتھ جلوہ گر تھے۔ آپؓ صورت میں بھی شبیہِ رسول تھے اور سیرت میں بھی آئینۂ اخلاقِ محمدی ﷺ۔
پھر وقت نے وہ منظر بھی دیکھا جب اقتدار اپنی تمام تر قوت کے باوجود حق کے سامنے سر اٹھائے کھڑا تھا۔ دنیا مصلحتوں کے بت تراش رہی تھی، ضمیر سود و زیاں کے ترازو میں تولے جا رہے تھے، مگر مدینے کا ایک مردِ حق، اپنے نانا کے دین کو بچانے کے لیے کھڑا ہوا اور تاریخ نے دیکھا کہ ایک طرف تخت تھا، دوسری طرف حق؛ ایک طرف لشکر تھا، دوسری طرف سچائی؛ ایک طرف دنیا تھی، دوسری طرف حسینؓ۔
کربلا محض ایک جنگ نہیں تھی، یہ ضمیر اور زر کے درمیان معرکہ تھا، کردار اور اقتدار کی کشمکش تھی، حق اور جبر کی آخری حدوں کا تصادم تھا۔ امام حسینؓ نے تلوار سے زیادہ اپنے صبر، اپنے استقلال، اپنی استقامت اور اپنی قربانی سے اسلام کی آبیاری کی۔
دشتِ کربلا میں جب پانی بند کر دیا گیا، جب معصوم بچے پیاس سے تڑپنے لگے، جب جوان بیٹے شہید ہو گئے، جب اعوان و انصار ایک ایک کر کے خاک و خون میں نہا گئے، تب بھی حسینؓ کے لہجے میں شکوہ نہ آیا۔ ان کی پیشانی پر اضطراب نہ آیا۔ ان کے ہونٹوں سے صرف رضا کی خوشبو آئی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جس راہ کا آغاز “رضیت باللہ رباً” سے ہوتا ہے، اس کی انتہا بھی رضائے الٰہی ہی ہوتی ہے۔
اسی لیے حسینؓ صرف ایک شخصیت نہیں، ایک معیار ہیں؛ صرف ایک شہید نہیں، شہادت کی معراج ہیں؛ صرف ایک نام نہیں، ضمیر کی بیداری کا استعارہ ہیں۔
اگر صبر کی تفسیر چاہیے تو حسینؓ کو دیکھو۔
اگر وفا کا مفہوم سمجھنا ہے تو حسینؓ کو پڑھو۔
اگر دین کے لیے قربانی کا معنی جاننا ہے تو کربلا کی خاک اٹھا کر دیکھو، اس کے ذرے ذرے سے صدائیں آتی ہیں:
سر کٹ سکتا ہے، مگر باطل کے سامنے جھک نہیں سکتا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت یہ نہیں کہ ان پر ظلم ہوا؛ ان کی عظمت یہ ہے کہ ظلم کے مقابل وہ حق کے مینار بن کر کھڑے رہے۔ ان کا مقام یہ نہیں کہ وہ شہید ہوئے؛ ان کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے شہادت کو حیاتِ ابدی کا مفہوم عطا کر دیا۔ ان کی رفعت یہ نہیں کہ ان کے چاہنے والے بہت ہیں؛ ان کی رفعت یہ ہے کہ چودہ صدیوں بعد بھی دل ان کے ذکر سے بھیگ جاتے ہیں، آنکھیں ان کے نام سے نم ہو جاتی ہیں اور روح ان کے کردار سے روشنی کشید کرتی ہے۔
حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی حیاتِ طیبہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کبھی تعداد کا محتاج نہیں ہوتا، سچائی کبھی طاقت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتی، اور جو انسان رضائے الٰہی کے لیے کھڑا ہو جائے، تاریخ اسے مٹانے والوں کو بھلا دیتی ہے مگر اس کا نام قیامت تک زندہ رہتا ہے۔
سلام ہو اُس نواسۂ رسول پر جس نے اپنے خون سے دینِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ کو بجھنے نہ دیا؛ سلام ہو اُس جگر گوشۂ بتول پر جس نے امت کو عزت، غیرت، صبر اور استقامت کا ایسا درس دیا جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ رہے گا؛ سلام ہو سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر، جن کا نام آتے ہی عشق سر جھکا دیتا ہے، عقل خاموش ہو جاتی ہے اور دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے:
“حسینؓ! آپ صرف کربلا کے نہیں، ہر اس دل کے امام ہیں جو حق سے محبت کرتا ہے، ظلم سے نفرت کرتا ہے اور رضائے الٰہی کی خاطر ہر قربانی دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔”
