(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وجود کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ انسان سمجھ لیتا ہے وہ زندہ ہے۔ حالانکہ زندگی محض سانسوں کے آنے جانے کا نام نہیں، بلکہ شعور کی اُس بیداری کا نام ہے جو انسان کو اپنے اندر اور باہر کے درمیان فرق مٹا کر ایک وحدت میں لے آتی ہے۔ بہت سے لوگ چلتے پھرتے ہیں، بولتے ہیں، ہنستے ہیں، روتے ہیں… مگر حقیقت میں وہ زندگی کے تجربے سے گزر نہیں رہے ہوتے، وہ صرف وقت کے اندر بکھرے ہوئے واقعات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔
موت کو ہم ہمیشہ اختتام سمجھتے ہیں، حالانکہ موت اپنی حقیقت میں ایک انکشاف ہے۔ وہاں ہر چیز اپنی آخری شکل میں پہنچ جاتی ہے، مگر ایک چیز ہمیشہ غیر موجود رہتی ہے: شعوری لمس، احساس کی حرارت اور وجود کی اندرونی روشنی۔ اس لیے موت میں سب کچھ ہو سکتا ہے مگر زندگی نہیں، کیونکہ زندگی کا جوہر حرکت نہیں بلکہ معنویت ہے، اور معنویت صرف احساس سے جنم لیتی ہے، جسم سے نہیں۔
اس کے برعکس زندگی بعض اوقات ایک ایسا تضاد بن جاتی ہے جہاں انسان زندہ تو ہوتا ہے مگر موجود نہیں ہوتا۔ وہ عمارتوں میں رہتا ہے مگر خود سے خالی ہوتا ہے، وہ لفظوں میں بات کرتا ہے مگر معنی سے محروم ہوتا ہے، وہ تعلقات میں ہوتا ہے مگر قربت سے دور ہوتا ہے۔ ایسی زندگی دراصل ایک مسلسل ادھورا پن ہے، جہاں ہر لمحہ مکمل ہونے کا دھوکہ دیتا ہے مگر اندر کی خلاء بڑھتی رہتی ہے۔
کتبوں سے تراشی ہوئی زندگی دراصل سماج کی وہ مصنوعی تشکیل ہے جس میں انسان کو ایک سانچے میں ڈھال دیا جاتا ہے، مگر اس کی روح کو اس سانچے میں جگہ نہیں ملتی۔ وہاں اصول ہوتے ہیں، ترتیب ہوتی ہے، شناخت ہوتی ہے… مگر تجربہ نہیں ہوتا، احساس نہیں ہوتا، اور سب سے بڑھ کر زندگی نہیں ہوتی۔ کیونکہ زندگی کسی نظام کی پیداوار نہیں، یہ ایک اندرونی انکشاف ہے جو صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان اپنی تمام مصنوعی تہوں کو اتار دیتا ہے۔
وجود کی اصل کشمکش یہی ہے کہ انسان “ہونا” چاہتا ہے مگر “بننا” اسے سکھا دیا جاتا ہے۔ وہ خود کو تلاش کرنا چاہتا ہے مگر اسے صرف کردار دیے جاتے ہیں۔ یوں وہ اپنی اصل سے دور ہوتے ہوتے ایک ایسی مشین میں بدل جاتا ہے جو چلتی تو ہے مگر جیتی نہیں۔
زندگی کی حقیقت شاید یہی ہے کہ وہ ایک مسلسل سوال ہے جس کا جواب باہر نہیں، اندر چھپا ہے۔ اور موت شاید وہ لمحہ ہے جب یہ سوال خاموش ہو جاتا ہے، مگر اس سے پہلے اگر انسان اس سوال کو سمجھ لے تو وہ سانسوں کے اندر بھی ابدیت کو چھو سکتا ہے۔
پس اصل فرق موت اور زندگی میں نہیں، بلکہ احساس اور بے حسی میں ہے۔ جو شخص احساس کے ساتھ جیتا ہے وہ زندہ ہے، چاہے اس کے قدم زمین پر ہوں یا وقت کے پار۔ اور جو شخص احساس کے بغیر موجود ہے، وہ محض ایک سایہ ہے جو خود اپنی ہی روشنی سے ناواقف ہے۔
