(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
اگر کبھی قدرت کے تعمیراتی ذوق پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس نے انسانی چہرے پر سب سے نمایاں عمارت “ناک” کی کھڑی کی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ نہ یہ آنکھوں کی طرح حسن بانٹتی ہے، نہ ہونٹوں کی طرح گفتگو کرتی ہے، نہ کانوں کی طرح سنتی ہے، مگر پھر بھی پورے چہرے میں سب سے زیادہ رعب اسی کا ہے۔ گویا قدرت نے اسے چہرے کا “چیف ایگزیکٹو آفیسر” بنا کر بھیجا ہو، جس کا دفتر بھی سب سے اونچا ہے اور مداخلت کا شوق بھی سب سے زیادہ۔
کوئی خوشبو دنیا کے کسی کونے میں جنم لے، سب سے پہلے اسی کے دربار میں حاضری دیتی ہے۔ پڑوسی کے گھر بریانی دم پر ہو، کسی کے صحن میں آم پکیں، کہیں بارش کی پہلی بوند مٹی کو چومے یا کہیں گیس کا چولہا کھلا رہ جائے، خبر سب سے پہلے اسی خفیہ ایجنسی کو ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے بعض لوگ دوسروں کے معاملات میں بھی ناک گھسانا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ ان کی ناک صرف ہوا نہیں سونگھتی، راز بھی سونگھ لیتی ہے۔
تہذیبوں نے بھی اس عضو کے ساتھ عجیب عجیب سلوک کیا ہے۔ مغرب میں ملاقات محبت سے شروع ہوتی ہے تو گال ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، مگر صحرا کے باسی جب محبت کا اظہار کرتے ہیں تو ناکیں آپس میں ملاتے ہیں۔ دیکھنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دو خودمختار سلطنتیں اپنی سرحدی چوکیوں پر امن معاہدہ کر رہی ہوں کہ “ہم دونوں چہرے کے بلند ترین مینار کے مالک ہیں۔”
لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہی بلند مینار سب سے زیادہ غیر محفوظ بھی ہے۔ محلے کی معمولی سی لڑائی ہو یا کھیل کے میدان کا جھگڑا، مکہ کبھی کان، گال یا ماتھے سے مشورہ نہیں کرتا، سیدھا ناک پر جا کر اترتا ہے۔ اردو والے بڑی شائستگی سے کہتے ہیں، “ناک ٹوٹ گئی۔” ایسے جیسے چینی مٹی کا کوئی کھلونا ذرا سا چٹخ گیا ہو۔ مگر پنجاب کا غصیلہ آدمی جب دھاڑ کر کہتا ہے، “اوئے، ناساں بھن دِیاں گا!” تو لگتا ہے جیسے صرف ناک نہیں، پورا چہرہ سرکاری نقشے سے خارج ہونے والا ہے۔ بعض الفاظ صرف بولے نہیں جاتے، دشمن کے دل پر براہِ راست فائر کیے جاتے ہیں۔
انسان کی ایک ایسی عادت بھی ہے جس پر پوری دنیا متفق ہے مگر کوئی کھل کر بات نہیں کرتا۔ دنیا سمجھتی ہے کہ آثارِ قدیمہ صرف مصر، موہنجوداڑو یا یونان میں ہیں، حالانکہ انسان کی شہادت یافتہ انگلی برسوں سے اپنی ہی ناک کے اندر آثارِ قدیمہ کی کھدائی میں مصروف ہے۔ یہ ایسا خاموش تحقیقی منصوبہ ہے جس کا کوئی بجٹ نہیں، کوئی نگرانی نہیں، مگر دلچسپی ایسی کہ آدمی محفل میں بیٹھا ہو یا گاڑی چلا رہا ہو، انگلی موقع پا کر فوراً اس غار کی مہم جوئی پر نکل کھڑی ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی خفیہ ایجنسی قومی راز برآمد کرنے میں لگی ہو۔
پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بولتے منہ سے ہیں مگر آواز ناک سے آتی ہے۔ ان کی گفتگو سن کر یوں لگتا ہے جیسے کوئی پرانا ریڈیو مسلسل اسٹیشن ڈھونڈ رہا ہو۔ ہر جملہ ناک کی سرنگوں میں اتنا گھوم پھر کر باہر آتا ہے کہ الفاظ سے زیادہ ناک کی گونج سنائی دیتی ہے۔ دوسری طرف متکبر لوگوں کی ناک الگ ہی مزاج رکھتی ہے۔ ہر وقت یوں پھولی رہتی ہے جیسے غرور نے اندر مستقل رہائش اختیار کر لی ہو۔ نتھنے اس انداز سے پھڑکتے ہیں گویا ابھی اعلان کریں گے کہ دنیا کی ساری ہوا صرف ان کی جاگیر ہے۔
اور پھر یہی ناک انسان کی انا کا سب سے بڑا قومی پرچم بن جاتی ہے۔ کوئی کہتا ہے، “میری ناک کا سوال ہے۔” کوئی خاندان کی ناک اونچی رکھنے پر پوری زندگی لگا دیتا ہے۔ کوئی عزت کو ناک سے باندھ لیتا ہے، کوئی تکبر کو۔ عجیب تماشا ہے کہ دو ہڈیوں اور چند سانسوں کے راستے کو انسان اپنی عظمت کا مینار سمجھ بیٹھتا ہے۔
مگر قدرت کو شاید تکبر سے زیادہ کوئی چیز ناپسند نہیں۔
وہ ایک دن ایسا ضرور لاتی ہے جب یہ مینار بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ سانسوں کی آمدورفت بند ہوتی ہے، غرور کے دروازے مقفل ہو جاتے ہیں، رعب کی ساری فائلیں بند کر دی جاتی ہیں، اور پھر وہ منظر سامنے آتا ہے جسے دیکھ کر بڑے بڑے فلسفے دم توڑ دیتے ہیں۔
کل تک جس ناک پر انسان اپنی عزت، اپنی انا، اپنی برتری اور اپنی چودھراہٹ کا جھنڈا لہرا رہا تھا، آج اسی کے دونوں شاہی دروازوں کو بند کرنے کے لیے سفید روئی کے دو معمولی سے پھائے منگوائے جاتے ہیں۔
سوچیے!
ایک طرف انسان کی پوری زندگی کا تکبر… اور دوسری طرف چند گرام روئی۔
نہ ناک احتجاج کرتی ہے، نہ انا اپیل دائر کرتی ہے، نہ رعب اپنا اختیار جتاتا ہے۔
روئی کے وہ دو معمولی سے پھائے خاموشی سے آتے ہیں، نتھنوں میں جگہ بناتے ہیں، اور یوں اعلان کر دیتے ہیں کہ ہر بلند مینار کا آخری محافظ مٹی نہیں، روئی ہوتی ہے۔
بس یہی وہ لمحہ ہے جب سمجھ آتا ہے کہ انسان کی “ناک اونچی” نہیں تھی، صرف سانسیں چل رہی تھیں۔
