(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
عورت کو سمجھنے کے لیے اسے طاقت کے پیمانوں سے نہیں، لطافت کے معیار سے دیکھنا پڑتا ہے۔ وہ ایسا وجود ہے جس کی اصل زبان شور نہیں، احساس ہے؛ جس کی فطرت حکم سے نہیں، احترام سے کھلتی ہے۔ جو لوگ رشتوں کو ملکیت سمجھتے ہیں، وہ عورت کو بھی ایک شے بنا دیتے ہیں، لیکن جو رشتوں کو امانت سمجھتے ہیں، وہ جان لیتے ہیں کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں، ایک مکمل انسان ہے، جس کی عزت، رائے، خواب اور احساسات بھی اتنے ہی مقدس ہیں جتنا اس کے وجود کا احترام۔
زندگی کا ایک عجیب قانون ہے کہ محبت کبھی زبردستی پیدا نہیں ہوتی۔ اسے صرف ایسا ماحول دیا جاتا ہے جہاں وہ خود پھول بن کر کھل اٹھے۔ عورت بھی اسی قانون کی مظہر ہے۔ جس دل کو اعتماد، شفقت اور عزت نصیب ہو، وہ اپنے اندر سے ایسی روشنی پیدا کرتا ہے جو صرف ایک انسان کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو منور کر دیتا ہے۔ لیکن جس دل پر مسلسل تحقیر، بے اعتنائی اور سخت لہجے کے زخم لگتے رہیں، وہاں محبت کی جگہ خاموشی، اور خاموشی کی جگہ فاصلے جنم لینے لگتے ہیں۔
اکثر مرد اپنی قوت کا اظہار بلند آواز، غصے اور اختیار سے کرتے ہیں، حالانکہ حقیقی طاقت کسی کو جھکا دینے میں نہیں بلکہ کسی کو محفوظ محسوس کرانے میں ہے۔ جو ہاتھ خوف پیدا کریں وہ طاقتور نہیں، جو ہاتھ اعتماد بخشیں وہی باوقار ہیں۔ عورت کے دل پر حکومت کبھی جبر سے قائم نہیں ہوتی، وہاں صرف حسنِ اخلاق کی بادشاہت چلتی ہے۔
نفسیات بھی یہی کہتی ہے کہ انسان اپنے بارے میں وہی تصور قائم کر لیتا ہے جو مسلسل اسے دوسروں کے رویّوں سے ملتا ہے۔ جس عورت کو عزت دی جائے، وہ اپنی شخصیت کو وقار کے ساتھ سنوارتی ہے، اور جسے ہر لمحہ کمتر محسوس کرایا جائے، وہ یا تو اندر ہی اندر بکھر جاتی ہے یا پھر اپنے وجود کے دفاع میں سخت ہو جاتی ہے۔ مسئلہ اس کی فطرت کا نہیں، اس ماحول کا ہوتا ہے جس نے اس کے احساسات کو مسلسل زخمی کیا۔
سائنس بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ محبت، اعتماد اور جذباتی تحفظ انسان کے جسم میں سکون اور وابستگی پیدا کرنے والے کیمیائی عوامل کو متحرک کرتے ہیں، جبکہ خوف، تذلیل اور مسلسل ذہنی دباؤ جسم و ذہن دونوں کو تھکا دیتے ہیں۔ گویا اچھا برتاؤ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی صحت اور خاندانی استحکام کی بنیاد بھی ہے۔
معاشرے کی بہت سی تلخیاں عورت کے مزاج سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہونے والے رویّوں سے جنم لیتی ہیں۔ جس وجود سے ہر ذمہ داری تو لی جائے مگر اس کے حصے میں نہ تعریف آئے، نہ احترام، نہ آسودگی، وہاں مسکراہٹیں آہستہ آہستہ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔ پھر ہم نتیجے پر حیران ہوتے ہیں، حالانکہ اسباب خود پیدا کر چکے ہوتے ہیں۔
اسلام نے عورت کو کمزور نہیں، قابلِ احترام امانت قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے حسنِ معاشرت کا حکم دیا اور رسولِ اکرم ﷺ نے گھر والوں کے ساتھ بہترین اخلاق کو ایمان کی خوبصورتی قرار دیا۔ یہ تعلیم اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ گھر کی تعمیر اینٹوں سے نہیں، رویّوں سے ہوتی ہے، اور محبت اس تعمیر کا پہلا پتھر ہے۔
یاد رکھیے، عورت کو بدلنے کی کوشش سے پہلے اپنے لہجے کو بدلنا پڑتا ہے۔ الفاظ نرم ہوں تو دل کھلتے ہیں، نگاہ میں احترام ہو تو اعتماد جنم لیتا ہے، اور کردار میں محبت ہو تو گھر محض رہائش نہیں رہتا، روح کی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔
خوش نصیب وہ مرد نہیں جس کے گھر میں صرف ایک عورت ہو، بلکہ وہ ہے جس کی موجودگی میں ایک عورت خود کو محفوظ، محترم اور مکمل محسوس کرے۔ ایسے ہی گھروں سے وہ نسلیں اٹھتی ہیں جو کردار میں مضبوط، احساس میں زندہ اور انسانیت میں بلند ہوتی ہیں
